• ( مولانا ابو داؤد محمد صادق ) - Ulema Search Engine


  • مولانا ابو داؤد محمد صادق( صوفی ,شیخ طریقت )  -   گوجرانوالہ ( مملکت خداداد ، اسلامی جمہوریہ پاکستان )
      |  مرشد گرامي: حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد چشتی قادری قدس سرہ   |  سلسله: قادریہ رضویہ
    تحريك: جماعت رضائے مصطفے
  • جماعت رضائے مصطفے پاکستان کے سربراہ بین الاقوامی شہرت کے حامل بزرگ عالم دین‘ صوفی اور شیخ طریقت حضرت مولانا ابو دائود محمدصادق رضوی مدظلہ عہد حاضر میں اسلاف کی یادگار اور فی اﷲ محبت کرنے والی باعمل شخصیت ہیں‘ حق گوئی اور کھرا پن‘ ان کی خصوصیات ہے۔ انہوں نے حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد چشتی قادری قدس سرہ کے فرمان پر 60 سال قبل گوجرانوالہ میں ڈیرہ جمایا اوران کے ارشاد کی تعمیل کی پاسداری میں اسی جگہ اتنی مدت سے پوری استقامت کے ساتھ خم ٹھونک کے جمے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ استاذ اور شیخ کا فرمان دل و جان سے قبول کرنا تلمیذ و سالک کے لئے اہم فریضہ ہوتا ہے۔ کیونکہ شریعت و طریقت کے پیشوا ہی حضور رسالت پناہﷺ کی بارگاہ تک رسائی اور معرفت الٰہی کا ذریعہ ہوتے ہیں… لہذا امور خیر میں ان کی حکم عدولی کی کوئی گنجائش نہیں… انہوں نے نصف صدی قبل اپنی مسجد کے حجرے سے جریدہ حمیدہ ’’رضا ئے مصطفی‘‘ کا آغاز کیاجو آج کمال سنجیدگی‘ متانت استقامت‘ تصلب اور تسلسل سے اہل سنت کی نظریاتی سرحدوں کے حفاظت کے لئے پوری آب و تاب کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ ان کی شخصیت میں موجود جذبہ اخلاص ہر ایک کو متاثر کرتا ہے جبکہ مہمان نوازی اور حسن خلق ان کے اوصاف میں سے ہیں۔ موقع کی مناسبت سے وہ ہر آنے والے کی ضیافت کا اہتمام ضرور کرتے ہیں۔ ایک مدت سے ان کا انٹرویو کرنے کی خواہش ذہن میں انگڑائیاں لیتی رہیں اور الحمدﷲ مجھے آپ کی خدمت میں متعدد مرتبہ حاضر ہونے کا موقع ملا۔ چند امور پر خط و کتابت کے ذریعے بھی ان کی رائے حاصل کی۔ اس سلسلہ میں مدیر رضائے مصطفے محترم محمد حفیظ نیازی‘ برادر محترم صاحبزادہ محمد دائود رضوی صاحب اور عزیز گرامی صاحبزادہ محمد رئوف رضوی صاحب نے بھرپور تعاون فرمایا جس کے باعث آج یہ انٹرویو ہمارے قارئین ملاحظہ فرما رہے ہیں۔ حضرت مولانا ابو دائود محمد صادق رضوی نے بتایا کہ دسمبر 2008ء کے شمارے سے اہلسنت و جماعت کے بین الاقوامی ترجمان ماہنامہ رضائے مصطفے کی اشاعتی عمر کے 50 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ مجھے مرکزی جامع مسجد زینت المساجدگوجرانوالہ میں خدمت دین کو ماشاء اﷲ 60 سال کا عرصہ ہوچکا ہے اور ہمارے دارالعلوم جامعہ حنیفہ رضویہ سراج العلوم گوجرانوالہ کا قیام عمل میں آئے ہوئے 56 سال کاعرصہ بیت چکا ہے جبکہ اس وقت میری عمر الحمدﷲ تقریبا 85 سال ہوچکی ہے۔ ہمارا آبائی وطن کوٹلی لوہاراں ضلع سیالکوٹ ہے۔ میری پیدائش بھی وہیں ہوئیں۔ سن پیدائش 1929ء ہے دسمبر 1929ئ۔ میرے والد صاحب کوٹلی لوہاراں میں اور والدہ صاحبہ گوجرانوالہ میں مدفون ہیں میں نے کوٹلی لوہاراں میں ابتدائی تعلیم ناظرہ قرآن پاک اور اسکول کی چند جماعتوں تک حاصل کی پھروالد صاحب مرحوم کی ملازمت کے دوران ان کے تبادلے کے سبب 1945ء میں بریلی شریف پہنچ گیا اور وہاں اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے مزار پر انوار اور مسجد شریف کے بالکل متصل مرکزی جامعہ رضویہ منظر اسلام کے شعبہ حفظ میں داخل ہوگیا اورچند پارے حفظ کئے۔ بریلی شریف میں جو دینی ماحول میسر آیا‘ دل میں اس کی لگن ہمیشہ تازہ رہی اور بالاخر باقاعدہ دینی تعلیم کے حصول کے لئے کوٹلی لوہاراں مغربی میں سلطان الواعظین ابو النور مولانا محمد بشیر کوٹلوی کے والد ماجد فقیہ اعظم حضرت مولانا محمدشریف محدث کوٹلوی (خلیفہ اعلیٰ حضرت رحمتہ اﷲ علیہ) کی خدمت میں حاضر ہو اور خوش بختی سے آپ کی صحبت ومجلس میسر آئی اور آپ کے اسی فیض صحبت سے علم دین کے حصول کا جذبہ پیدا ہوا۔ حضرت فقیہ اعظم نے پہلے کچھ اسباق خود پڑھائے اور پھر میرا دینی رجحان دیکھ کر باقاعدہ حصول تعلیم کے لئے کمال شفقت فرماتے ہوئے بنفس نفس علی پور سیداں شریف ضلع ناروال میں حضرت امیر ملت الحاج پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری کے مدرسہ نقشبندیہ میں لے جاکر داخل کرادیا۔ وہاں حضرت علامہ آل حسن سنبھلی علیہ الرحمہ اوراستاذ العلماء حضرت علامہ محمد عبدالرشید جھنگوی مدظلہ کی خدمت میں زانوائے تلمذ طے کئے نیز قیام پاکستان کے بعد جب محدث اعظم پاکستان شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سردار احمد علیہ الرحمہ نے بریلی شریف سے لائل پور میں تشریف فرما ہوکر جامعہ رضویہ مظہر اسلام کی بنیاد رکھی توفقیر ابتداء ہی میں علی پور شریف سے لائل پور حاضر ہوگیا اور بفضلہ تعالیٰ محدث اعظم پاکستان علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوکرپہلے ہی سال دورہ حدیث شریف کی اولین جماعت میں داخلہ لے لیا۔ خوب بہرہ ور ہوا اور جامعہ رضویہ کے پہلے جلسہ دستار فضیلت کے فارغ التحصیل طلباء میں یہ فقیر بھی اکابر علماء و مشائخ کے مبارک ہاتھوں سے (15 شعبان 1369ھ) دستار فضیلت و سند سے مشرف ہوا پھر حضرت محدث اعظم پاکستان علیہ الرحمہ کے حکم سے لائل پور ہی میں بعض مساجدمیں امامت و خطابت اور مرکزی دارالعلوم جامعہ رضویہ میں کچھ تدریس کی خدمت سپرد ہوئی۔ اس کے بعد جب 1370ھ میں گوجرانوالہ کی قدیم ترین‘ تاریخی مرکزی جامع مسجد زینت المساجد میں خطیب‘ امام کی ضرورت محسوس ہوئی اور گوجرانوالہ سے اس سلسلہ میں زینت المساجدکی انجمن کے وفد نے حضرت محدث اعظم پاکستان کی خدمت میں حاضر ہوکر درخواست پیش کی تو اس اہم کام کے لئے آپ نے مجھے منتخب فرمایا اور 29 ذیقعد 1370ھ کو میری یہاں تقرری فرمادی۔ وہ بتا رہے تھے کہ حق گوئی کے جرم میں میں متعدد مرتبہ قید وبند‘ مقدمہ بازی میں الجھایا گیا۔ ہتھکڑی و جرمانہ وغیرہ تک بھی نوبت پہنچی اور مجھے پھانسی کوٹھڑی میں بھی بند رکھا گیا۔ شہر سے اخراج و قتل وغیرہ کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔مگر الحمدﷲ کبھی بھی ہمارے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔ الحمدﷲ میرے یہاں آنے کے بعد دینی کام میں خوب اور نمایاں اضافہ ہوا بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ سنی رضوی انقلاب آیا اور فیض کا ایک دریا موجزن ہوا… تاریخی یادداشت کے طور پر بیان کررہا ہوں کہ روزنامہ ’’جناح‘‘ لاہور نے دو سال قبل 20جنوری 2009ء کے اشاعت میں گوجرانوالہ سے جوبیورو رپورٹ شائع کی ہے اس کے مطابق (اس وقت سب سے زیادہ) گوجرانوالہ میں اہلسنت بریلوی مسلک کی 1064 مساجد ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ 14 شوال 1374ھ کو بدست محدث اعظم پاکستان علیہ الرحمہ گوجرانوالہ کی اولین دینی معیاری مرکزی درس گاہ جامعہ حنفیہ رضویہ سراج العلوم کا قیام عمل میں آیا جس سے ہزاروں طلباء مستفیض و سینکڑوں فارغ التحصیل ہوئے جو اس وقت اندرون ملک کے علاوہ مڈل ایسٹ عرب ممالک اور یورپ و امریکہ وغیرہ میں بھی اشاعت و تبلیغ دین میں مصروف ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تقریبا 1375ھ (1956ئ) میں تبلیغی سرگرمیوں‘ اجلاس و محافل و رسائل و اشتہارات کی تبلیغ و اشاعت کے لئے باقاعدگی کے ساتھ جماعت رضائے مصطفے کا قیام عمل میں آیا اور اس کے تحت 14 رمضان المبارک 1376ھ بمطابق 15 اپریل 1957ء کو باقاعدہ اہلسنت و جماعت کے بین الاقوامی محبوب ترجمان اور مسلک اعلیٰ حضرت بریلوی کے علمبردارماہنامہ رضائے مصطفے کا اجراء ہوا جو پانچ سال ہفت روزہ‘ پانچ سال پندرہ روزہ اوراس کے بعد اب تک ماہنامہ رضائے مصطفے کی صورت میں باقاعدگی پابندی وقت کے ساتھ شائع ہورہا ہے۔ رسالہ رضائے مصطفے کے اجراء کے ساتھ ساتھ علماء اہلسنت کے تصانیف و تراجم کی اشاعت و طباعت کے لئے مکتبہ رضائے مصطفے کا قیام عمل میں آیا جو اس وقت بھی وسیع پیمانہ پر نشر و اشاعت کے محاذ پر سرگرم عمل ہے۔ کثیر کتب کے علاوہ تقریبا 55 قسم کے مختلف تبلیغی اشتہارات بڑے سائز میں شائع ہوچکے ہیں اور ہورہے ہیں۔ ان اشتہارات کو اب کتابی شکل میں ’’براہین صادق‘‘ کے نام سے بھی چھاپ دیاگیا ہے۔ حضرت مولانا ابو دائود محمد صادق رضوی نے ماضی کی جھروکوں میں جھانک کر کہا کہ محدث اعظم پاکستان حضرت قبلہ شیخ الحدیث علامہ ابو الفضل محمدسردار احمد صاحب علیہ الرحمہ اس ناچیز پر بے حدشفقت و نوازش فرمایا کرتے تھے اور دینی و مسلکی خدمات پر بہت زیادہ دعائوں سے نوازتے اور اسی سلسلہ میں آپ نے کئی مرتبہ فقیر کی حوصلہ افزائی کے لئے مکاتیب بھی ارسال فرمائے۔ جن میں سے ایک مکتوب میں حضرت محدث اعظم علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں ’’نیک فال ہے کہ آپ اخبار (رضائے مصطفے) تیار کررہے ہیں۔ مولیٰ عزوجل قبولیت و فتح و نصرت عطا فرمائے (آمین) گوجرانوالہ و گردونواح میں آپ کی برکت سے سنیت کا بہت چرچا ہے‘ اہلسنت کے جتنے اجلاس گوجرانوالہ میں ہورہے ہیں‘ فقیر کے خیال میں یہاں کسی شہر میں نہیں ہورہے‘‘ ان کا یہ ارشاد مبارک میرے لئے سند ہے اور تحدیث نعمت کے طور پر بیان کرتا ہوں۔لائل پور میں دورہ حدیث کے دوران ایک مرتبہ حضرت علیہ الرحمہ نے طلباء حدیث میں محدثین کرام کی مناسبت سے کنتییں تقسیم فرمائیں اور اس موقع پر اس فقیر کو ’’ابو دائود‘‘ کی کنیت عطا فرمائی گئی۔ صادق میں غلام شیخ الحدیث ہوں اک عاشق رسول کی صحبت پہ ناز ہے اپنی سیاسی جدوجہد کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ میں نے 1970ء میں حضرت مولانا محمد فضل الرحمن مدنی علیہ الرحمہ‘ نبیرہ امیر ملت مولانا پیر سید حیدر حسین شاہ رحمتہ اﷲ علیہ‘ حضرت میاں جمیل احمد شرقپوری اور مقامی علماء کرام و احباب اہلسنت کے شدید اصرار پر جمعیت علماء پاکستان کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا۔ نظام مصطفے کے نفاذ کے لئے منڈی کامونکی سے گوجرانوالہ شہر تک 14 میل لمبا پہلا مثالی جلوس نکالاگیا جس میں صدر جمعیت علماء پاکستان حضرت خواجہ محمدقمر الدین سیالوی رحمتہ اﷲ علیہ سمیت جید علماء و مشائخ اور ارباب دانش نے کثیر تعداد میں شرکت فرمائی۔ یہ جلوس پیدل افراد کے علاوہ بے شمار ٹرکوں‘ بسوں‘ٹرالیوں‘ کاروں‘ اسکوٹروں‘ اور سائیکلوں پر مشتمل تھا۔ جلوس کے ہجوم کے باعث جی ٹی روڈ پر بہت دیر تک ٹریفک معطل رہی پھر رات کو بعد نماز عشاء گوجرانوالہ کی عوامی جلسہ گاہ باغ جناح میں عظیم الشان سنی کانفرنس منعقد ہوئی جونہایت کامیاب رہی۔ بدعقیدہ لوگوں کی کذب بیانی اور منفی حربوں کے باوجود مجموعی طور پر جمعیت علماء پاکستان کوبہت اچھے ووٹ ملے اس الیکشن میں کونسل مسلم لیگ و پیپلز پارٹی کے علاوہ باقی پارٹیوں اور مذہبی جماعتوں کی بہ نسبت جمعیت علماء پاکستان کا پہلا نمبر رہا۔ اس وقت ماشاء اﷲ مجھے 17541‘جماعت اسلامی کو 8680‘ جمعیت علماء اسلام کو 7318 اور جمعیت اہلحدیث کو 6322 ووٹ مل سکے۔ اس طرح اہلسنت کی واضح اور نمایاں اکثریت و برتری کاخوب مظاہرہ و چرچا ہوا۔ ہمارے تبلیغی اشتہارات کو براہین صادق کے نام سے کتابی شکل میں بھی چھاپ دیا گیا ہے۔ حضرت علامہ ابو دائود محمد صادق رضوی مدظلہ نے مثبت تنقید اور اصلاحی موقف ہر جگہ بیان کرنااپنی زندگی کا معمول بنایا ہے۔ انہوں نے سابق صدر جنرل ضیاء الحق سے اپنی ایک ملاقات کے حوالے سے بتایا کہ جنرل ضیاء الحق سے ملاقات کرکے ہم نے تحریری طور پر فوجی حکومت کو بڑی جرات سے مطالبہ کیا تھا کہ قسط وار اور جزوی اسلام کی بجائے مکمل اسلامی نظام کا نفاذ کیا جائے۔ بے پردگی و فحاشی کے بڑھتے ہوئے طوفان کو پوری قوت ایمانی سے روکا جائے۔ بڑھتے ہوئے جرائم کی روک تھام اور عبرتناک فوری سزائوں کے علاوہ کمر توڑ مہنگائی پر قابو پاکر غرباء و سفید پوش لوگوں کی دعائیں حاصل کریں۔ نظام زکوٰۃ کو سود کی آمیزش سے پاک کرائیں۔ اس سے بھی زیادہ اہم فریضہ نماز کا بھی عملی نفاذ ہے۔ اور بالخصوص سرکاری اداروں‘دفتروں‘ اسکولوں‘ کچہریوں اور پولیس اور فوج میں باقاعدگی اور تسلسل کے ساتھ نماز کی پابندی کرائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کا محاسبہ کرائیں۔ نظریاتی کونسل کی اسلامی سفارشات کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ عائلی قوانین کی تنسیخ کی جائے اور خاندانی منصوبہ بندی جیسا غیر اخلاقی شعبہ ختم کیا جائے۔ عورت کی تصویر اور عورت کی بے پردگی دونوں باتیں اسلام کے خلاف ہیں اور ان دونوں حرام چیزوں کے ملاپ و اشاعت کے باعث پاکستان میں بہت تیزی کے ساتھ بے پردگی و فحاشی کا طوفان چھا رہا ہے اور فلم و سنیما‘ اخبارات و رسائل‘ ٹی وی ‘ ریڈیو‘ میوزک سینٹروں‘ فوٹو اسٹوڈیوز‘بک اسٹالوں اور مرد وزن کے اختلاط کے ذریعے محرم و نا محرم اور اسلامی حیاء و شرافت کااحساس ختم اور حرام کاری و بدکاری کو بہت زیادہ فروغ حاصل ہورہا ہے۔ اس لئے برائے خداومصطفیٰ (جل جلالہ وﷺ) پوری قوت ایمانی سے اس طوفان کے آگے بند باندھیں‘ مردوزن کا اختلاط ختم کرائیں۔ عورتوں کے لئے چادر و چاردیواری پر مکمل پابندی عائد کریں تاکہ دل و نگاہ کے تقدس کاتحفظ ہو۔ جیسا کہ کچھ عرصہ قبل وزارت اطلاعات و اہل صحافت کے تعاون سے تھوڑی سی مدت عورت کی تصویر کی اشاعت ممنوع رہی ہے۔ اس کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اپنی امی جان کی یادیں تازہ کرتے ہوئے انہوں نے بیان کیا کہ فقیر کی والدہ محترمہ رحمتہ اﷲ علیہا نے 26 ذوالحجہ 1981ء میں انتقال فرمایا۔انا ﷲ و انا الیہ راجعون۔ ان کے دل میں حضورﷺ کی محبت‘ اسلام کادرد اور دین کا شغف تھا اور خدا کے فضل سے یہ صرف انہی کا جذبہ اور ہمت تھی جس نے میرا رخ مذہب کی طرف موڑ دیا اور خدمت دین کی منزل تک پہنچنے میں میری دستگیری فرمائی۔ حضرت ابو دائود دعا کررہے تھے کہ مولیٰ تعالیٰ بوسیلہ مصطفے علیہ التحیتہ و الثناء مجھے خلوص و نیک نیتی کے ساتھ خدمت دین کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطا فرمائے۔ قبولیت سے نوازے اور اسے اس ناچیز اور والدہ محترمہ کے لئے آخرت کی بھلائی و سرخروئی کا ذریعہ بنائے آمین۔ انہوں نے بتایا کہ میرے ننھیال سیالکوٹ شہر میں اور ددھیال کوٹلی لوہاراں میں ہیں۔ میری والدہ نے برادری کے طعن و تمسخر‘ غربت اور اکلوتا فرزند ہونے کے باوجود مجھے تعلیم دین و خدمت دین کے لئے وقف کردیا۔ ورنہ اس دنیاوی ماحول و دور تعیش میں جبکہ کئی خاندانی مولویوں اور پیروں کے لڑکے اور لڑکیاں انگریزی تعلیم میں عروج حاصل کرہی ہیں اور مولویت و دینداری کا قلادہ اتار کر فرنگی تہذیب اور تعیش و فسق و فجور کی رو میں بہہ رہی ہیں‘ ایک غیر مولوی خاندان کی خاتون سے اس کی کیا توقع ہوسکتی تھی کہ وہ اپنے ماحول و برادری کے برعکس اپنے لڑکے کو مولوی اور مستیڑ بنا ڈالے۔ وہ بہت صابر و رحمدل و بااخلاق اور غمگسارو خدمت گزار خاتون تھیں جو غریب و دکھیاری عورتوں اور پریشان حال خواتین کی بہت دلجوئی اور خیر خواہی فرماتی تھیں۔ انہوں نے ذکر و عبادت کے لئے اپنے گھر میں ایک الگ جگہ متعین کی ہوئی تھی۔ جہاں عقیدہ صحیحہ اہلسنت و جماعت کے مطابق نماز و تلاوت اور درود و وظائف کیا کرتی تھیں۔ بعض اوقات عورتیں ان کے پاس جمع ہوتیں تو وہ ان کو کوئی کتاب سناتیں‘ نصیحت فرماتیں سب کے لئے نہایت دردوسوز سے ملاکرتیں اور جو رشتہ دار عزیز داڑھی منڈاتے یا لڑکیاں نماز و پردہ کی پرواہ نہ کرتیں ان کے منہ پر ان کی شرعی برائی کی مذمت کرتیں۔ بزرگان دین و اﷲ والوں سے انہیں بڑی عقیدت و محبت تھی۔ اوران کی اسی روش کا یہ اثر تھا کہ مجھے بھی بزرگان دین و علماء کے ساتھ عقیدت و محبت اور ان کے مواعظ و تصانیف کی طرف بہت رغبت ہوگئی۔ حاجی صاحب نے بتایا کہ مجھے یاد ہے کہ میری دینی تربیت کا آغاز اس طرح ہوا کہ میں تیسری جماعت میں پڑھتا تھا اور میرے ایک ہم جماعت قدرت اﷲ اس وقت نماز پڑھا کرتے تھے‘ اور میرا ابھی تک مسجد کے ساتھ رابطہ قائم نہیں ہوا تھا۔ ایک دن بعد دوپہر کے وقت میں اور میرا ’’کلاس فیلو‘‘ اسکول کا کام کررہے تھے کہ اسی دوران وہ نماز پڑھنے کے لئے جانے لگا تو والدہ صاحبہ نے مجھے فرمایا کہ ’’تو بھی اس کے ساتھ جا اور باقاعدہ نماز پڑھا کر‘‘ میں نے اس بچپن کے انداز میں کچھ حیلہ بہانہ کیا لیکن والدہ محترمہ نے ایک نہ سنی اور بالاصرار مجھے اس کے ساتھ مسجد میں بھیج دیا۔ مسجد میں آتے ہی وہ جھجک اور جھوٹی شرم دور ہوگئی۔ اور میں مسجد ہی کا ہوکر رہ گیا۔ حاجی صاحب نے بتایا کہ میری والدہ محترمہ کو حضور سید عالمﷺ سے محبت تھی۔ بعض اوقات وہ نہایت محبت و سوز سے پڑھتی ہوئی سنائی دیتی تھیں۔ دیئے سبھی نے رنج پہ رنج مجھے میرے مولا بلا لو مدینے مجھے حضرت صاحب فرما رہے تھے کہ میری امی جان کے اسی جذبہ محبت کا یہ نتیجہ تھا کہ وہ اکثر مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کی زیارت و حاضری کے لئے بے تاب رہتی تھیں اور حج کے سفر ناموں اورحاجیوں کی زبانی حرمین طیبین کے حالات سن کر اپنے دل کو تسکین دیتی تھیں اور ہمیشہ اس سعادت کے لئے دعائیں کرتی تھیں۔چنانچہ آپ کے اس جذبہ اور طلبہ صادق کا ثمرہ تھا کہ جب 1373ء میں میں نے زیارت حرمین طیبین کے لئے اپنی والدہ ماجدہ ‘ ہمشیرہ صاحبہ اور اپنی درخواست دی تو پہلے سال ہی درخواست منظور ہوگئی۔ قدرت نے اسباب مہیا فرمائے اور ہم تینوں افراد خانہ گوجرانوالہ سے دیار حبیب کے لئے روانہ ہوگئے اور حج و عمرہ کے علاوہ 31 روز مدینہ منورہ میںحاضری رہی۔ حضرت نے بیان کیا کہ عظمت و شان رسالت پر میری ایک تقریر کے سلسلہ میں 1377)ھ سے 1381ھ تک) ایک طویل مقدمہ و گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا تو طبعی طور پر اندر ہی اندر غم و اندوہ کے باعث میری والدہ کی صحت پر اس کا بہت زیادہ اثر پڑا اور انہیں انتہائی کمزوری ہوگئی جس کے باعث وہ کافی صاحب فراش رہیں۔ 19 ذو الحجہ 1381ھ کو سپریم کورٹ سے میری رہائی ہوئی تو اس کے صرف ایک ہفتہ بعد زینت المساجدکے زیر سایہ 26 ذوالحجہ 1381ھ بروز جمعرات تقریبا 9 بجے صبح آپ انتقال فرما گئیں۔ انا ﷲو انا الیہ راجعون اور نماز ظہر کے بعد گوجرانوالہ میں (جسے انہوں نے اپنا ’’دینی وطن‘‘ قرار دیا ہوا تھا‘ مدفون ہوئیں (رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہا) انہوں نے تبلیغی نوعیت کے اپنے چھوٹے دستی اشتہارات کے حوالے سے بتایا کہ اور بڑے اشتہارات مختلف چوکوں‘ بازاروں‘ دکانوں اوراہم مقامات سے زنانہ تصاویر‘ فحش کلینڈر وفلمی بورڈ اتروا کر یا ان کے بالمقابل جماعت رضائے مصطفیٰ پاکستان کے تحت دیواروںپر ہم نے بڑے بڑے بورڈ لکھوائے اور لوہے کی چادروں کے بورڈ آویزاں کئے اور اشتہارات اور بورڈ لگوائے جن کی عبارات و کلمات مبارکہ اور نصیحت آموز اشعار ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ حضرت علامہ الحاج ابو دائود محمد صادق رضوی نے زور دیتے ہوئے بتایا کہ چند اقوال جو ہم نے لکھوائے ان میں سے کچھ یہ تھے کہ یاد رکھنا چاہئے کہ عقیدہ و عمل اور ایمان و تقویٰ کا آپس میں گہرا تعلق ہے‘ اگر یہ تعلق برقرار نہ رہے تو انسان فاسق و فاجر و ملحد و گمراہ ہو جاتا ہے… جب تک دین و سیاست‘ مسجد و دارالحکومت اور منبر و تخت سلطنت کا باہم تعلق رہا دین و ملت کو فروغ و عروج حاصل ہوتا رہا لیکن جب ان میں تفریق ہوگئی تو مسلمان مختلف فتنوں کا شکار ہوکر پستی و ذلت میں جاگرے (معاذ اﷲ) ملک و ملت اور معاشرہ کی اصلاح وبگاڑ بنیادی طور پر علماء مشائخ اور حکم پر موقوف ہے اور ان کی استقامت و لغزش کا نام اصلاح و بگاڑ ہے… عملی طور پر نماز‘ داڑھی اور پردہ شرعی اصلاح معاشرے کے تین اہم ستون ہیں بشرطیکہ یہ تینوں نمائشی و ریارکاری پر قائم نہ ہوں… اس وقت المیہ یہ ہے کہ لوگوںکا قول و فعل‘ زبان و عمل اور ظاہر و باطن یکساں نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ زبانی طور پر اسلام‘ اسلام کی پکار کے باوجود عملی طور پر دن بدن اسلام سے دوری و بیگانگی ہوتی جارہی ہے۔ کامل مرشد کی ضرورت اور اہمیت تو مسلم وحقیقت ہے اور مووجدہ مادی و مشینی انقلاب نے اس کی ضرورت کو مزید بھی واضح کردیا ہے۔ شیخ طریقت کے معیار کے حوالے سے کن امور کا خیال رکھنا ضروری ہے؟ کے جواب میں حضرت نباض قوم مدظلہ کا موقف ہے کہ ’’مرشد سے بیعت کرنے کے لئے اس میں چار شرائط کا پایا جانا ضروری ہے۔ جس شخص میں یہ چاروں یا ان میں سے کوئی بھی ایک شرط نہ پائی جائے اس کو پیر نہ بنائے اور اس کی بیعت نہ کرے (۱) مرشد کا شجرہ طریقت بالاتصال صحیح حضور اقدسﷺ تک پہنچتا ہو‘ بیچ میں منقطع نہ ہو کہ منقطع کے ذریعے سے اتصال ناممکن ہے (۲) مرشد صحیح العقیدہ سنی بریلوی ہو‘ بدمذہب گمراہ کا سلسلہ شیطان تک پہنچے گا نہ کہ رسول اﷲﷺ تک… تو آج کل بہت کھلے ہوئے بددینوں بلکہ بے دینوں (جوکہ سرے سے منکر و دشمن اولیاء ہیں) ریاکاری کے لئے پیری مریدی کا جال پھیلا رکھا ہے ‘(۳) مرشد‘ عالم دین ہو‘ ایسا کہ عقائد اہلسنت سے واقف ہو‘ عقائد باطلہ سے خبردار ہو‘ حلال و حرام و جائز و ناجائز میں تمیز رکھتا ہو اور ضروری حدتک قرآن و سنت اور علم فقہ جانتا ہو۔ علماء دین و شرع شریف کا مخالف‘ جاہل صوفی و پیر نہ ہو (۴) مرشد باعمل‘ پرہیزگار اور متبع سنت ہو۔ فاسق معلن نافرمان شریعت نہ ہو‘ تارک نماز و جماعت نہ ہو‘ گانے بجانے‘ کھیل تماشے اور نشہ وغیرہ خلاف شریعت و سنت امور کا مرتکب نہ ہو۔ حضرت مولانا الحاج ابو دائود محمدصادق فرمارہے تھے کہ کئی ننگ دھڑک ملنگ بھی پیر بن بیٹھے ہیں اور جس کا دل چاہتاہے دو چار قوال بلا کر میلاد لگا لیتا ہے۔ نہ نماز جماعت کی پابندی‘ نہ عورتوں کا پردہ‘ نہ حلال و حرام کا کوئی امتیاز۔ اس لئے اصلی اور سچے پیران عظام کا کوئی تشخص اور پہچان و تعارف عوام میں برقرار رہا۔ لہذا سوچ سمجھ کر کسی کا مرید ہونا چاہئے صحیح العقیدہ اور باعمل و پرہیز گار پیرصاحب کا بیعت ہونا چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ نصف صدی سے زائد عرصہ پر محیط دینی و مسلکی خدمات کے اعتراف میں برکاتی فائونڈیشن نے (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۰ء میں) برکاتی گولڈ میڈل پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حضرت محدث اعظم پاکستان مختلف اوقات میں مقدمات و گرفتاری کے موقع پر بھی بڑی ہمدردی و خیر خواہی فرماتے رہے اور سنت نکاح کے موقع پر بھی جب فقیر نے حضرت صاحب علیہ الرحمہ سے عرض کیا تو حسب معمول از حد مہربانی فرماتے ہوئے نکاح خوانی کے لئے سیالکوٹ ساتھ تشریف لے گئے۔ بنفس نفیس نکاح پڑھایا اور گوجرانوالہ واپسی کے بعد دوسرے دن ولیمہ شریف کے بعد فیصل آباد تشریف لے گئے۔ ایک مرتبہ مولانا محمد عنایت اﷲ خطیب سانگلہ ہل اور فقیر ایک تقریر کے سلسلہ میں گرفتار کرلئے گئے۔ ہم دونوں گوجرانوالہ جیل میں تھے۔ ضمانت کے لئے ہائی کورٹ میں اپیل دائر تھی۔ تاریخ سماعت سے ایک دن پیشتر حضرت شیخ الحدیث قدس سرہ لاہور داتا دربار حاضرہوئے۔ دربار کی ملحقہ مسجد میں کافی دیر تک نعت خوانی ہوتی رہی۔ نعت خوانی کے بعد آپ نے نہایت پراعتماد لہجہ میں یہ اشعار پڑھنا شروع کئے کہ تمنا ہو پوری جو فرمائیں حضرت کہ صادق‘ عنایت کو چھٹی ملی ہے تیرے صادق‘ عنایت دوڑے آئیں کرم تیرا اگر باذل ہو یا غوث خدا تعالیٰ کی شان کہ صبح تاریخ تھی‘ اسی دن ہم دونوں ضمانت پر رہا ہوگئے۔ یہ حضورغوث پاک اور حضور داتا گنج بخش قدس سرہما سے استغاثہ کی برکت تھی۔ یہ واقعہ مولاناجلال الدین قادری نے اپنی کتاب محدث اعظم پاکستان ص ۱۹۴ پر بھی درج کیا ہے۔ ٭ اسی طرح پہلی تحریک ختم نبوت کے دوران فقیر جب ملتان جیل میں قیدوبند کی سزا بھگت رہا تھا تو حضور محدث اعظم علیہ الرحمہ نے کمال مہربانی فرماتے ہوئے مولانا محمد بشیر رضوی مرحوم (رڈیالہ گوجرانوالہ) کو وہاں بھیج کر جیل میں ضروریات کی اشیاء پہنچا کر دستگیری فرمائی۔ آہ اب کہاں سے لائیں گے ایسا شفیق و مہرباں صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق سے ملاقات کے مزید احوال بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ ملاقات ربیع الاول ۱۴۰۱ھ/ جنوری ۱۹۸۱ء میں ہوئی اور میرے ساتھ کچھ علماء و دانشور حضرات کے ایک وفد نے بھی صدر محمد ضیاء الحق سے نظام مصطفےﷺ کے نفاذ کے مطالبہ کے لئے ایوان صدر میں خصوصی طور پر ملاقات کی تھی۔ ہمارے اس وفد میں محمد حفیظ نیازی ایڈیٹر ماہنامہ رضائے مصطفے گوجرانوالہ‘ مولانا غلام فرید ہزاروی مرحوم‘ وفاقی وزیر خان غلام دستگیر خان وغیرہم شامل تھے۔ ملاقات کے آغاز ہی میں ایک ویڈیو پارٹی نے اپنا کام شروع کرنا چاہا تو میں نے فورا انہیں منع کردیا۔ اس پر صدر مملکت نے کیمرہ والوں کو واپس بھیج دیا۔ دوران ملاقات میں نے صدر صاحب کو توجہ دلائی کہ جب وہ پوری طرح خود مختار حاکم ہیں تو کیوں نہ اسلام کی خاطر کچھ انفرادی کام کئے جائیں اور پچھلے دور کی خرابیاں دور کی جائیں۔ اس پر ضیاء الحق نے اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ بھٹو دور کا شراب خانہ ختم کراکے میں نے وہاں پر مسجد بنوادی ہے۔اس میں نے کہا کہ یہ اقدام قابل تحسین ہے لیکن ایسے کام محدود نہ ہوں اور وسیع پیمانے پر غیر شرعی اڈے ختم کرکے وہاں دینی مدارس اور مساجد کی تعمیر عمل میں لائی جائے۔ میں نے جنرل ضیاء الحق کو کہا کہ آپ کو آپ کی ایک ذاتی صورتحال کی طرف محض ایک دینی فریضہ سمجھ کر توجہ دلاناضروری سمجھتا ہوں۔ وہ یہ کہ آپ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر ہیں مگر بعض دوسروں میں آپ کے ساتھ جب آپ کی اہلیہ جاتی ہیں تو وہ پردہ نہیں کرتین‘ جبکہ شرعا ان کے لئے پردہ بہت ضروری ہوتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ آئندہ اس سلسلے میں احتیاط روا رکھی جائے۔ اس پر جنرل ضیاء الحق نے کہا کہ میں آپ کا پیغام انہیں دے دوں گا۔ اس موقع پر صدر مملکت نے اپنی بیمار بچی کے لئے دعا کرائی اور پانی دم کرایا اور کہا کہ ہم اس کو پلاتے رہا کریں گے۔ اس موقع پر ایک صاحب نے مٹھائی کا ڈبہ صدر صاحب کو پیش کیا تو صدر صاحب نے کہا کہ اسے کیا کرنا ہے‘ لانے والے صاحب نے کہا اپنے عملہ میں تقسیم فرما دیجئے۔ صدر صاحب نے کہاکہ ٹھیک ہے لیکن تقسیم کرنے سے قبل اس پر ختم شریف پڑھ لیا جائے۔ چنانچہ رکن وفد مولانا غلام فرید ہزاروی نے ختم شریف پڑھا۔ میں نے دعا کی اور مٹھائی کا ڈبہ صدر صاحب کے عملہ میں تقسیم کردیا گیا اور جو کچھ مٹھائی بچ گئی وہ صدر صاحب نے اپنی بیمار بیٹی کو بھجوادی۔ مٹھائی کے بعد چائے لائی گئی جو حاضرین نے صدر صاحب سمیت نوش کی۔ اتفاق سے صدر صاحب نے کپ دائیں ہاتھ میں اور پرچ بائیں ہاتھ میں پکڑ کر چائے پینی شروع کردی تو میں نے جنرل ضیاء سے کہا کہ خوردونوش دائیں ہاتھ سے بہتر ہے۔ دائیں ہاتھ سے پرچ میں چائے ڈال کر کپ رکھ دیں اور دائیں ہاتھ سے ہی چائے پئیں کیونکہ یہ ہمارے پیارے نبی کریمﷺ کی سنت ہے۔ چنانچہ صدر صاحب نے یہ بات مان کر ایسا ہی کیا اور سنت نبویﷺ سے آگاہ کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ مولانا ابو دائود محمدصادق رضوی صاحب قبلہ نے بتایا کہ علامہ شاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ مجھ سے بہت محبت و شفقت کا سلوک روا رکھتے تھے۔ ہم نے جب بھی انہیں گزارش کی انہوں نے ہمارے دعویٰ دعوت کو شرف قبول بخشا اور وہ تشریف لائے۔ ہمیشہ آمنا سامنا ہونے پر بہت اکرام فرماتے اورنماز باجماعت کا موقع پیش آیا تو مجھے امامت کا ارشاد فرماتے۔ ایک مرتبہ میں نے مولانا محمدحفیظ نیازی سے کہا کہ حضرت نورانی صاحب کو توجہ دلائیں کہ ان کا جبہ ٹخنے سے نیچے معلوم ہوتاہے۔ چنانچہ نیازی صاحب نے ان کی عرض کیا کہ ابو دائود صاحب پوچھتے ہیں کہ آپ کا جبہ ٹخنے سے نیچے تو نہیں؟ مولانا نورانی نے فرمایا ‘ اصل میں جب میں نے کراچی میں جبہ پہنا تو درست تھا‘ بیگ میں رکھ کر لے آیا۔ آج صبح اسے پریس کراکے پہنا تو یہ مجھے بھی ٹخنوں سے نیچے لگا۔ شاید استری کے سبب کچھ فرق پڑگیا۔ اب انشاء اﷲ العزیز کراچی واپس جاکر اسے چھوٹاکرالونگا۔ قبلہ مفتی محمد صادق صاحب کے توجہ دلانے کا بہت مشکور ہوں۔ میرے خلاف بعض طعن کرنے والوں کے متعلق علامہ نورانی نے ایک مکتوب میں لکھا کہ ’’14ستمبر 1989ء بوقت شب شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں عظیم الشان نظام مصطفیﷺ کانفرنس میں شرکت کی سعادت میسر آئی۔ صبح کو حضرت مولاناابو دائودمحمد صادق صاحب مدظلہ العالیٰ کے خلاف ایک اشتہار دیکھ کر بہت افسوس اور قلبی صدمہ ہوا۔ یہ اشتہار حضرت مولانا موصوف کے خلاف بغض اور حسد نفسانیت پر مبنی ہے۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ مولانا موصوف مجھ سے یا کسی سے اختلاف رائے یا دینی معاملہ میں تساہل یا لغزش پر گرفت کرتے ہیں تو وہ بربنائے اخلاص اور الدین النصیحۃ کی بنیاد پر ہے۔ جو خالص نیک نیتی اور جذبہ سنیت کے تحت ہوتا ہے۔ حضرت مولانا ابو دائود محمد صادق ہم سب کے واجب الاحترام عالم باعمل ہیں۔ مولا تعالیٰ ہم سب کو حق کہنے اور سننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین‘‘ ایک اور مکتوب جوانہوں نے 10ذیقعد 1393ھ کو قومی اسمبلی اسلام آباد سے مجھے لکھا۔ میں علامہ نورانی علیہ الرحمہ یوں رقم طراز ہیں کہ ’’مخدوم و محترم حضرت مولانا ابو دائود محمد صادق صاحب مد ظلہ السلام علیکم! کتاب ’’شاہ احمد نورانی‘‘ موصول ہوگئی۔ عزت افزائی کا ممنون ہوں۔ جو نصیحت آپ نے اس میں فرمائی اس پر بے حد مسرور ہوا۔ دعاگو ہوں کہ مولیٰ تعالیٰ مجھے اس پر عمل کرنے توفیق و استقامت عطا فرمائے۔ آمین‘‘ حضرت علامہ ابو دائود نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ محدث کبیر پاکستان شیخ الحدیث استاذ الاساتذہ علامہ غلام رسول رضوی صاحب علیہ الرحمہ نے ہمارے ایک عزیز مولانا محمد باغ علی رضوی (فیصل آباد) کوکئی مرتبہ فرمایا کہ مرکزی دارالعلوم جامعہ‘ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد میں (بطور شیخ الحدیث) میری تقرری میں تمہارے پیر صاحب (ابو دائود محمد صادق) کا مشورہ و کوشش شامل تھی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الحمدﷲ میں نے ملک بھر میں سینکڑوں مساجد ومدارس کا سنگ بنیاد رکھا اور افتتاح کیا۔ گوجرانوالہ کی بہت سی دیگر مساجد کی طرح جسامع مسجد نقشبندیہ ماڈل ٹائون کا سنگ بنیاد بھی فقیر نے ہی رکھا اور مولانا محمد سعید احمد مجددی مرحوم کو وہاںبطور خطیب مقرر کیا۔ مرکزی جامع مسجد فیض مدینہ کامونکی کا افتتاح کیا اور وہاں پر شہید اہلسنت علامہ محمد اکرم رضوی کو بطور خطیب مقرر کرلیا۔ انہوں نے فرمایا کہ تاریخی یادداشت کے طور پر چند کانفرنسوں کاتذکرہ کرتاہوں جن میں‘ میں نے اہلسنت کی بیداری کے لئے خطاب کئے یا تاریخی نظمیں سنائیں جو بہت مقبول ہوئیں۔ ان تمام کانفرنسوں میں میں نے اہتمام کے ساتھ کیمرے بند کروادیئے کیونکہ فوٹو بازی اور تصویر سازی شرعا حرام اور گناہ کبیرہ ہے اس لئے کسی کیمرہ مین کو سامنے نہ آنے دیا اور ان اکثر مواقع پر باقاعدہ اسٹیج سیکریٹری صاحبان نے اعلان کیا کہ ’’خبردار! کوئی صاحب ان کی تصویر نہ بنائے۔ جون 1970ء میں کل پاکستان سنی کانفرنس دارالسلام ٹوبہ میں‘ میں نے یہ تاریخی نظم پڑھی۔ جاگ اٹھے ہیں اہلسنت گونج اٹھا یہ نعرہ ہے دور ہٹو اے دشمن ملت پاکستان ہمارا ہے اکتوبر 1978ء میں کل پاکستان سنی کانفرنس ملتان میں یہ یادگار نظم سنائی سنی ہے تو جماعت اہلسنت میں آ اہلا سہلا مرحبا مرحبا مارچ 1979ء میں کل پاکستان میلاد مصطفی کانفرنس مصطفی آباد (رائے ونڈ) میں میری نہایت ایمان افروز پنجابی نظم کا عنوان تھا 26,25 نوں رائے ونڈ جانا ایں اوہنوں مصطفیٰ آباد بنانا ایں میں نے بغیر تصویر کے حج کیا 1373/ 1954ء میں‘ میںنے (تقریبا تین ماہ) حرمین طیبین حاضری کا شرف حاصل کیا۔ اس وقت فوٹو کی پابندی نہیں تھی۔ پھر جنرل ضیاء الحق کے دور میں ایک صاحب نے کویت سے مجھے حج کرنے کے لئے ڈرافٹ بھیجا‘ چونکہ اس وقت قانونا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پر فوٹو لگانا ضروری تھا چنانچہ ایک وفاقی وزیر کی وساطت سے صدر ضیاء الحق سے رابطہ کیا گیا تو صدر ضیاء الحق نے ہمارے لئے خصوصی طور پر سعودی حکمرانوں سے بات کی مگر انہوں نے فوٹو کے بغیر حج کی اجازت نہ دی تو میں نے یہ ڈرافٹ شکریہ کے ساتھ ان صاحب کو واپس بھیج دیا۔ بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں بے نظیر بھٹو کے ایک قریبی ساتھی نے مجھ سے رابطہ کیا کہ آپ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم بے نظیر بھٹو سے ملاقات کرلیں تو بغیر فوٹو کے حج کے لئے روانگی ہوسکتی ہے۔ میں نے لاحول ولا قوۃ الا باﷲ پڑھتے ہوئے جواب دیا کہ مجھے دین کی حدیں توڑنے والی بے پردہ عورت کی وساطت سے سفر حج پر جانا منظور نہیں۔ تصویر کے خلاف میری عدالتی جدوجہد کے حوالے سے تین مختلف اخباری تراشے بھی زیر مطالعہ رہنے چاہئیں میں نے الحمدﷲ ٹھوس بنیادوں پر اقدام اٹھایا اور حکومتی غیر شرعی قانون کو کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ گوجرانوالہ 14 اکتوبر‘ سپریم کورٹ کے اسپیشل شریعت اپیل بنچ نے ممتاز عالم دین مولانا ابو دائود محمد صادق کی شرعی اپیل کی پانچ روزہ سماعت مکمل کرلی ہے اور فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔ مولانا محمد صادق نے اپنی اپیل میں شناختی کارڈ پر تصویر لگانے کی پابندی کے قانون کو چیلنج کیا ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ذی روح کی تصویر بنانا قرآن و سنت کے منافی ہے۔ مولانا محمد صادق نے رجسٹریشن آفس گوجرانوالہ میں درخواست دی تھی کہ تصویر کی حرمت کی وجہ سے میراشناختی کارڈ بغیر تصویر کے جاری کیاجائے۔ محکمہ نے ان کی یہ درخواست مسترد کردی جس کے خلاف مولانا نے شریعت کورٹ میں اپیل دائر کردی۔ شریعت کورٹ نے بھی یہ اپیل مسترد کرتے ہوئے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ تصویر شرعا وہ حرام ہے جو پرستش کی نیت سے بنائی گئی ہو۔ مولانا نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی اور یہ موقف اختیار کیا کہ شریعت کورٹ کا فیصلہ قرآن و سنت کا تقاضا پورا نہیں کرتا۔ فوٹو گرافی کے خلاف میں نے باقاعدہ طور پر عدالتوں کادروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ اس حوالے سے میں نے وفاقی شرعی عدالت سے رجوع کیا ایک اخباری رپورٹ ملاحظہ ہو ’’وفاقی شرعی عدالت نے شناختی کارڈ پر تصویر لگانے کے بارے میں گوجرانوالہ کے مولانا ابو دائود محمد صادق کی رٹ درخواست کی سماعت مکمل کرلی ہے اور یہ فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ تصویر اتروانا اور بنانا شریعت کے منافی ہے اور استدعا کی ہے کہ عدالت عالیہ اس سلسلے میں حکم صادر کرے۔ درخواست دہندہ نے کہاکہ وہ عالم دین ہیں اور ایک مسجد کے خطیب ہیں۔ انہوں نے حکومت کو درخواست دی تھی کہ انہیں شناختی کارڈ پر تصویر لگانے سے مستثنیٰ قرار دیا جائے کیونکہ وہ کوئی ایسا کام نہیں کرسکتے جو حدیث کی رو سے منع ہو لیکن حکومت کی طرف سے انہیں جواب موصول ہوا کہ انہیں کارڈ پر تصویر لگانے کے قانون سے مستثنی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ شناختی کارڈ بنانے کے لئے تیار ہیں لیکن اس پر تصویر لگانے کے لئے تیار نہیں اس لئے متعلقہ قانون کی اس شرط کوغیر اسلامی قرار دیا جائے۔ ان کے وکیل میں نذیر احمد نے اس سلسلے میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کی تصانیف اور احادیث کے حوالے پیش کئے اور کہا کہ اگرتصویر بنانا ختم ہوجائے تو معاشرہ سے بہت سی برائیاں ختم ہوسکتی ہیں۔ ان کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت عالیہ نے فیصلہ محفوظ رکھا‘‘ (نوائے وقت 8 اکتوبر 1980ئ) سپریم کورٹ میں مولانا ابو دائود محمد صادق کی اپیل کی سماعت کے لئے پانچ ججوں پر مشتمل خصوصی بنچ تشکیل دیا گیا تھا جو جسٹس محمد افضل ‘جسٹس پیر کرم شاہ‘ جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ‘ جسٹس شفیع الرحمن اور جسٹس تقی عثمانی پر مشتمل تھا۔ 9 اکتوبر… مولانا کی طرف سے ان کے وکیل میاں نذیر احمد نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے اپیل کا پورا پس منظر بیان کیا اور عدالت کو بتایا کہ ملکی قانون کی رو سے شناختی کارڈ نہ بنوانا قابل تعذیر ہے جبکہ کارڈ کے لئے تصویر بنوانا آخرت میں عذاب کا موجب ہے۔ میاں نذیر اختر ایڈووکیٹ کے دلائل مسلسل تین روز جاری رہے (پریس نوٹ) فوٹو کے اس حوالے سے میرے چند پسندیدہ اشعار جو میرے موقف کے ترجمان ہیں یہ ہیں بت پرستی دین احمد میں کبھی آئی نہیں اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھنچوائی نہیں ہم امتی ہیں اپنے رسول کریمﷺ کے جو کچھ انہیں پسند ہے وہ ہے ہمیں پسند ان عاشقوں کا میں ہوں ادنیٰ نیاز مند جن کو میرے حضورﷺ کی ہے ہر ادا پسند میرا پیغام امت مسلمہ کے نام یہ ہے کہ: دین و دنیا میں تمہیں مقصود گر آرام ہے ان کا دامن تھام لو جن کا محمدﷺ نام ہے اگر جنت میں جانے کا ارادہ ہے تمامی کا گلے میں پہن لو پٹہ محمدﷺ کی غلامی کا زلف دوتا سرکارﷺ کو دل سے لگایئے جس رنگ میں سرکارﷺ ہیں وہ رنگ لایئے میری دلی دعا ہے کہ دعا ہے کہ الٰہی قوم کو چشم بصیرت دے الٰہی رحم کر ان پر انہیں نور ہدایت دے

  • ( مولانا ابو داؤد محمد صادق ) - Books Of

Dynamic Drive DHTML Scripts- Virtual Pagination script v2.1
First Prev Page 1/6 Last

  • ( مولانا ابو داؤد محمد صادق ) - Audio / Video Of

Dynamic Drive DHTML Scripts- Virtual Pagination script v2.1

Audio ID: 3846 - Zikr E Mustafa Sallallaho Alaihi Wasallam


Audio ID: 3845 - Hazrat Syeduna Siddique Akbar Radi Allah Anho


Audio ID: 3844 - Shan E Madinah


Audio ID: 3843 - Qaseedah Burda Shareef


Audio ID: 3842 - Pegham E Mustafa Sallallaho Alaihi Wasallam Part 002


Audio ID: 3841 - Pegham E Mustafa Sallallaho Alaihi Wasallam Part 001


Audio ID: 3840 - Parda Ki Ahmiyat


Audio ID: 3839 - Hazrat Owais Qarni Radi Allah Anho


Audio ID: 3838 - Namoos E Risalat Sallallaho Alaihi Wasallam


Audio ID: 3837 - Nabiy E Rehmat Sallallaho Alaihi Wasallam


Audio ID: 3836 - Naara E Risalat


Audio ID: 3835 - Naam E Muhammad Sallallaho Alaihi Wasallam


Audio ID: 3834 - Muhabbat E Mustafa Sallallaho Alaihi Wasallam


Audio ID: 3833 - Maut Aur Qabar Part 002


Audio ID: 3832 - Maut Aur Qabar Part 001


Audio ID: 3831 - Maujzat E Mustafa Sallallaho Alaihi Wasallam


Audio ID: 3830 - Maqam E Waledain


Audio ID: 3829 - Khawaja Ghareeb Nawaz Alaih Rahma


Audio ID: 3828 - Jazba E Eemani


Audio ID: 3827 - Iseem E Muhammad Sallallaho Alaihi Wasallam


Audio ID: 3826 - Hayat E Nabwi Sallallaho Alaihi Wasallam Part 002


Audio ID: 3825 - Hayat E Nabwi Sallallaho Alaihi Wasallam Part 001


Audio ID: 3824 - Faizan E Auwliya


Audio ID: 3823 - Faizan E Aala Hazrat Alaih Rahma


Audio ID: 3822 - Eid E Milad Un Nabi Sallallaho Alaihi Wasallam


Audio ID: 3821 - Eid E Nabwi Sallallaho Alaihi Wasallam


Audio ID: 3820 - Dozakh Say Bacho


Audio ID: 3819 - Be Hayayee Ka Anjaam


Audio ID: 3818 - Bahar E Madinah


Audio ID: 3817 - Abr E Rehmat


First Prev Page 1/6 Last

  • Authors