زخم جگر ہر اک کو دکھانا فضول ہے NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Was Read By Users ( 762 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Poetry Page



زخم جگر ہر اک کو دکھانا فضول ہے
یعنی تماشا خود کو بنانا فضول ہے

جب اپنی خامیاں ہیں عیاں شمس کی طرح
انگشت دوسروں پہ اٹھانا فضول ہے

تاریکیِ جہاں پہ جو غالب نہ آسکے
ایسا کویی چراغ جلانا فضول ہے

چہرے سے آشکار جو ہوجائے کہے
وہ راز پھر کسی سے چھپانا فضول ہے

بیمارِ غم سے جب کہ تعلق نہیں کوئی
پھر پُرسشِ مریض کو آنا فضول ہے

کھولے گا لب نہ کوئی تسلی کے واسطے
رودادِ غم کسی کو سنانا فضول ہے

اپنے نصیب کا جو ہے رسوائیوں میں ہاتھ
الزام دوسروں پہ لگانا فضول ہے

ساقیِ مَے خلوص سے لبریز جو نہ ہو
رندوں کو ایسا جام پلانا فضول ہے

انسانیت کی جن کو ہوا تک نہیں لگی
اے دوست اُن سے ربط بڑھانا فضول ہے