دنیا کی بہاریں ہیں ، سرکار دو عالم سے NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Was Read By Users ( 681 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Poetry Page



دنیا کی بہاریں ہیں ، سرکار دو عالم سے
پر نور فضائیں ہیں ، اس نیّر اعظم سے

صورت گر عالم نے کیا نقش سنوارے ہیں
بڑھ کر نہ حسیں آیا محبوب مکرم سے

والشمس کے مکھڑے نے تاروں کو ضیاء بخشی
پھولوں نے مہک پائی اس گیسوئے پر خم سے

صف بستہ ہوئے حاضر فوراً ہی شب اسراء
یوسف سے ، مسیحا سے ، داوود سے ، آدم سے

روضے کے تصور میں اشکوں کی لگی رم جھم
کس درجہ سکوں پایا ، عشاق نے اِس غم سے

کل عرصہٴ محشر میں بگڑی وہ بنائیں گے
سجدے سے ، شفاعت سے ، پھر دیدہٴ پر نم سے

میخا نہٴ کوثر سے بھر بھر کے پلائیں گے
جیسے کہ نوازا ہے ارزانیٴ زمزم سے

یہ نعت کے نغمے تو اک نذر عقیدت ہے
ممکن ہی نہیں واحدؔ تو صیف و ثنا ہم سے