تفسیر کی ضرورت و اہمیت NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 1246 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



امام جلال الدین سیوطی شافعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’جس زمانے میں قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا ا س وقت عربی کی فصاحت و بلاغت کے ماہرین موجود تھے، وہ اس کے ظاہر اور اس کے احکام کو توجانتے تھے لیکن اس کی باطنی باریکیاں ان پر بھی غورو فکر کرنے اور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے سوالات کرنے کے بعد ہی ظاہر ہوتی تھیں جیسے جب یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی
’’اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمْ یَلْبِسُوۡۤا اِیۡمٰنَہُمۡ بِظُلْمٍ‘‘
تو صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے رسولاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں عرض کی’’ہم میں سے ایسا کون ہے جو اپنی جان پر ظلم نہیں کرتا۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ا س کی تفسیر بیان کی کہ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے اور اس پر اس آیت ’’اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیۡمٌ‘‘سے استدلال فرمایا ۔
اسی طرح جب حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے یہ ارشاد فرمایا ’’مَنْ نُوْقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ‘‘یعنی جس سے اعمال کے حساب کے معاملے میں جرح کی گئی تو وہ عذاب میں گرفتار ہو جائے گا۔ توحضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے ان آیات’’فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیۡرًا ۙ﴿۸﴾ وَّ یَنۡقَلِبُ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ مَسْرُوۡرًا ؕ﴿۹﴾‘‘کے بارے میں حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے دریافت کیا۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’یہ تو صرف اعمال کا پیش ہونا ہے۔ (یعنی یہ وہ مناقشہ نہیں ہے جو حدیث میں فرمایا گیا ہے ) (جب میدانِ فصاحت و بلاغت کے شہسواروں کو قرآن کے معانی سمجھنے کے لئے الفاظ ِقرآنی کی تفسیر کی حاجت ہوئی ) تو ہم تو اُس چیز کے زیادہ محتاج ہیں جس کی انہیں ضرورت پڑی بلکہ ہم تو سب لوگوں سے زیادہ اس چیز کے محتاج ہیں کیونکہ ہمیں بغیر سیکھے لغت کے اسرار و رموز اور اس کے مراتب معلوم نہیں ہو سکتے۔ (الاتقان فی علوم القرآن، النوع السابع والسبعون، فصل وامّا وجہ الحاجۃ الیہ۔۔۔ الخ،۲ /۵۴۶-۵۴۷، ملخصاً)

قرآن فہمی بہت بڑی عبادت و سعادت ہے، لہٰذا تلاوت ِ قرآن کے ساتھ مستند تفاسیر کے ذریعے معانیِ قرآن بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ حضرت اِیاس بن معاویہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :جو لوگ قرآنِ مجید پڑھتے ہیں اور وہ ا س کی تفسیر نہیں جانتے ان کی مثال اُن لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے ؟ اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور ا س کی تفسیر جانتا ہے اس کی مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط میں لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ خط میں کیا لکھا ہے۔
(تفسیر قرطبی، باب ما جاء فی فضل تفسیر القرآن واہلہ، ۱/۴۱، الجزء الاول، ملخصاً)