تحریکِ پاکستان میں علماء اہلسنت کا کردار NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 547 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



یہ ایک حقیقت ہے کہ تحریک ِ پاکستان میں اگر علماو مشائخِ اہلِ سنّت اپنا قائدانہ کردار ادا نہ کرتے تو پاکستان کا قیام عملاً ناممکن تھا۔ مندرجۂ ذیل مضمون میں علما و مشائخِ اہلِ سنّت کے تحریکِ پاکستان میں کردار کی چند جھلکیاں پیش کی جاتی ہیں۔ اعلیٰ حضرت اوردو قومی نظریے کا اِحیا: ۱۸۹۷ء میں پٹنہ بہار شریف (انڈیا) میں پہلی سنّی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں سیکڑوں علما و مشائخ کی موجودگی میں خطاب کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخاں فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے مسلم قومیت کا علیحدہ تصور باضابطہ طور پر پیش کیا، جب کہ امام احمد رضا نے ’’دو قومی نظریہ ‘‘ کے عنوان سے اپنی سیاسی جدو جہد کا آغاز ۱۸۸۱ء ہی میں شروع فرما دیا تھا۔ پاکستان کی حمایت میں پرزورقرارداد: ۲۴تا ۲۷ جمادی الاولیٰ ۱۳۶۵ء بمطابق ۲۷ تا ۳۰؍ اپریل ۱۹۴۶ء کو باغِ فاطماں، بنارس (انڈیا ) میں امیرِِ ملّت حضرت پیر سیّد جماعت علی شاہ صاحب محدث علی پوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ(متوفّٰی ۱۳۷۰ھ/۱۹۵۱ء) کی زیرِ صدارت ایک چار روز ہ آٹھویں عظیم الشان آل انڈیا سنّی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔ اس کانفرنس کاانتظام و انصرام صدر الافاضل حضرت علامہ سیّد محمد نعیم الدین مراد آبادی (خلیفۂ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ تعالٰی علیھما) نے فرمایا تھا۔ کانفرنس میں پانچ ہزار علما و مشائخ اور ساٹھ ہزار سے زائد عوام اہلِ سنّت نے شرکت کر کے پاکستان کی بھر پور حمایت کی۔ ۲۹؍ اپریل ۱۹۴۶ء کو اس کانفرنس کے تیسرے اجلاس میں حسبِ ذیل قرار داد منظور کی گئی : ۱۔ آل انڈیا سنّی کانفرنس کا یہ اجلاس مطالبۂ پاکستان کی پُر زور حمایت کرتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ علما و مشائخِ اہلِ سنّت اسلامی حکومت کے قیام کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے ہرامکانی قربانی کے واسطے تیار ہیں اور اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ ایک ایسی حکومت قائم کریں جو قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویّہ کی روشنی میں، فقہی اصول کے مطابق ہو۔ ۲۔ یہ اجلاس تجویز کرتا ہے کہ اسلامی حکومت کے لئے مکمّل لائحۂ عمل مرتّب کرنے کے لئے حسبِ ذیل حضرات کی ایک کمیٹی بنائی جاتی ہے: دستور ساز کمیٹی: ۱۔ حضرت مفتیِ اعظم علّامہ محمد مصطفیٰ رضا خاں بریلوی علیہ الرحمۃ ۲۔ حضرت صدر الافاضل استاذ العلما مولانا سیّد محمد نعیم الدین مراد آبادی صاب علیہ الرحمۃ ۳۔ حضرت مولانا سیّد ابوالمحامد محمد صاحب محدثِ اعظمِ ہند کچھو چھوی علیہ الرحمۃ ۴ ۔ حضرت صدرالشریعہ مولانا محمد امجد علی علیہ الرحمۃ ۵۔ حضرت مبلغِ اعظم مولانا عبدالعلیم صاحب صدّیقی میر ٹھی علیہ الرحمۃ ۶۔ حضرت مولانا عبدالحامد صاحب بدایونی علیہ الرحمۃ ۷۔ حضرت مولانا سیّد شاہ دیوان آلِ رسول علی خاں صاحب (سجادہ نشین اجمیر شریف) علیہ الرحمۃ ۸۔حضرت مولانا ابو البرکات سیّد احمد صاحب علیہ الرحمۃ (لاہور) ۹۔ حضرت مولانا شاہ قمر الدین صاحب علیہ الرحمۃ (سجادہ نشین سیال شریف) ۱۰۔ حضرت پیر سیّد شاہ محمد عبدالرحمٰن علیہ الرحمۃ بھر چونڈی شریف(سندھ) (وصال ۱۳۸۰ھ) ۱۱۔ حضرت مولانا سیّد امین الحسنات علیہ الرحمۃ مانکی شریف (وصال ۱۳۷۹ھ) ۱۲۔ حضرت بہادر حاجی بخش مصطفیٰ علی علیہ الرحمۃ (مدراس) ۱۳۔ حضرت مولانا ابوالحسنات سیّد محمد احمد صاحب علیہ الرحمۃ (لاہور) یہ اجلاس کمیٹی کویہ اختیاردیتا ہے کہ مزید ارکان کا حسبِ ضرورت و مصلحت اضافہ کر لے ، یہ لازم ہوگا کہ اضافے میں تمام صوبہ جات کے نمائندے لئے جائیں۔(مختصر رپورٹ خطبۂصدارت جمہوریہ اسلامیہ، مطبوعہ مراد آباد ۱۹۴۶ء، صفحہ ۲۹) صدرِ مجلسِ استقبالیہ حضرت علامہ سیّد محمد اعظم کچھوچھوی علیہ الرحمۃ نے اپنے خطاب میں یہاں تک فرمایا کہ اگر تحریکِ پاکستان کے معاملے میں محمد علی جناح صاحب دست برداربھی ہوجائیں تو ہم پاکستان بناکر ہی دم لیں گے۔ اس عظیم الشان آل انڈیا سنّی کانفرنس کے دوسرے اجلاس سے حضرت پیر سیّد امین الحسنات مانکی شریف (وصال ۱۳۷۹ھ/ ۱۹۶۰ء) نے ڈھائی گھنٹےولولہ انگیزناصحانہ خطاب فرمایا ، جس میں آپ نے واشگاف الفاظ میں کہا : ’’میں نے محمد علی جناح صاحب سے وعدہ لیا ہے کہ اگر انھوں نے مسلمانوں کو دھوکہ دیا یا اسلام کے خلاف کوئی نظام جاری کرنے کی کوشش کی تو آج جس طرح ہم آپ کو دعوت دے رہے ہیں اور آپ کی قیادت کو مان رہے ہیں کل اس طرح اس کے برعکس ہوگا۔ جناح صاحب ! اگر ہم (یعنی اہلِ سنّت و جماعت کے افراد) اور ہمارے مرید ین آپ سے الگ ہوجائیں تو مسلم لیگ کا پرچم اٹھانے والا بھی کوئی فرد آپ کے ساتھ نہیں ہوگا۔یہ سب لیگ کے جلسے اہلِ سنّت کے دم سے ہیں ‘‘۔(سنّی کانفرنس کا تاریخی تسلسل، مطبوعۂ انجمن ضیائے طیبہ، کراچی، ص۳۴ تا ۳۶) تحریکِ پاکستان کو تقویت پہنچانے میں حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خاں بریلوی کا کردار: تحریکِ پاکستان کو تقویت پہنچانے میں اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت مولانا شاہ احمد رضا خاں فاضل بریلوی کے شہزادۂ اکبر حجۃ الا سلام حضرت علامہ مولانا شاہ محمد حامد رضا خاں قادری برکاتی بریلوی (رحمۃ اللہ تعالٰی علیھما) کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۴؍ شعبان المعظّم ۱۳۴۳ھ/ مارچ ۱۹۲۵ء میں مسلمانو ں کی مذہبی علمی اور سیاسی ترقی کے لئے مقتدر علما نے ’’آل انڈیاسنّی کانفرنس ‘‘ کی بنیاد رکھی ۔ کانفرنس کے بانی اراکین میں حجۃ الاسلام کا اسمِ گرامی سرِ فہرست ہے ۔ کانفرنس کے پہلے تاسیسی اجلاس منعقدہ۲۰ تا ۲۳؍ شعبان المعظّم ۱۳۴۳ھ/ ۱۶ تا ۱۹؍ مارچ ۱۹۲۵ ء مراد آباد میں بحیثیت صدرِ مجلسِ استقبالیہ جو خطبہ ارشاد فرمایا وہ مسلمانوں کے سیاسی ، سماجی ، مذہبی ، معاشی، معاشرتی ، عمرانی غرض ہمہ وجوہ ترقی کے واضح اور مکمل لائحہ عمل پر مبنی ہے، وقت گزرنے کے باوجود آج بھی وہ خطبہ واضح نشانِ راہ ہے، اسی خطبے میں آپ نے ہندو مسلم اتحاد کی بجائے مسلمانوں کے آپس میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا : ’’بے شک دو گھوڑوں کو ایک گاڑی میں جوت کر زیادہ وزن کھینچا جا سکتا ہے، لیکن بکری اور بھیڑ یے کو ایک جگہ جمع کر کے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا‘‘۔ (ماہ نامہ ضیائے حرم ، لاہور، اگست ۱۹۹۷ء/ ربیع الثانی ۱۴۱۸ھ ، جلد نمبر ۲۷، شمارہ۱۰، ص ۲۰، بحوالۂ’’تخلیقِ پاکستان میں علمائے اہلِ سنّت کا کردار‘‘، حاشیہ ، ص۱۱۹) ‎حضرت شاہ احمد مختار صدّیقی کی شرکت: آل انڈیا سنّی کانفرنس کے مذکورۂ بالا تاسیسی اجلاس میں جن بہ کثرت علما ومشائخِ اہلِ سنّت نے شرکت فرما کراسے کامیاب کیا، انھی حضرات میں جہاںمبلغِ اعظم حضرت شاہ محمد عبد العلیم صدّیقی خود شریک تھے، وہیں اُن کے برادرِ اکبر مبلغِ اسلام حضرت علّامہ شاہ احمد مختار صدّیقی میرٹھی بھی شریک تھے۔ یہ دونوں حضرات اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت مولانا شاہ احمد رضا خاں بریلوی کے خاص خلفائے کرام میں شامل ہیں۔ اسی طرح ان حضرات کے ایک اور بھائی خطیب العلما حضرت مولانا نذیر احمد صدّیقی خجندؔی نے بھی آل انڈیا سنّی کانفرنس کے مختلف اجلاسوں میں شرکت فرما کر تحریکِ پاکستان کو تقویت پہنچائی(رحمۃ اللہ تعالٰی علیھم)۔(علامہ محمد جلال الدین قادری: تاریخ آل انڈیا سنّی کانفرنس، ص ۲۴ وغیرہ) تحریکِ پاکستان اور حضرت مفتیِ اعظمِ ہند: اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت مولانا شاہ احمد رضا خاں فاضل و محدث بریلوی کے شہرادۂ اصغر مفتیِ اعظمِ ہند حضرت علامہ مولانا شاہ محمد مصطفیٰ رضا خاں نوری بریلوی (رضی اللہ تعالٰی عنھما)نے’’آل انڈیا سنّی کانفرنس‘‘ کے ہراجلاس میں باقاعدگی سے شرکت فرمائی، ۱۹۴۶ء میں آل انڈیا سنّی کانفرنس بنارس میں مشائخ و علما کی جو کمیٹی دستور مرتّب کرنے کے لئے منتخب کی گئی آپ کو اس میں سرِ فہرست رکھا گیا، نیز مرکزی ’’دارالافتاء‘‘ کے سر پرست بھی تجویز کیے گئے۔ تحریکِ پاکستان کی حمایت میں ’’آل انڈیا سنّی کانفرنس‘‘کے مشاہیر علما و مشائخ کا متفقہ فیصلہ اخبار’دبدبۂ سکندری‘ رامپورمیں شائع ہوا ، جس میں مفتیِ اعظم ہند مصطفیٰ رضا خاں علیہ الرحمۃ کا نام سرِ فہرست ہے اس تاریخی فیصلے کا متن ملاحظہ کیجیے: ’’آل انڈیا سنّی کانفرنس مسلم لیگ کے اس طریقۂ عمل کی تائید کر سکتی ہے جو شریعت ِمطہرہ کے خلاف نہ ہو، جیسے کہ الیکشن کے معاملے میں کانگریس کو ناکام کرنے کی کوشش، اس میں مسلم لیگ جس سنّی مسلمان کو بھی اٹھائے، سنّی کانفرنس کے اراکین و ممبران اس کی تائید کر سکتے ہیں، ووٹ دے سکتے ہیں، دوسروں کواس کے ووٹ دینے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔ مسئلۂ پاکستان یعنی ہندوستان کے کسی حصّے میں آئینِ شریعت کے مطابق فقہی اصول پر حکومت قائم کرنا سنّی کانفرس کے نزدیک محمود و مستحسن ہے۔‘‘ مفتیِ اعظمِ ہند علیہ الرحمۃ نے وائسرے ہند کے نام ایک ٹیلی گرام میں بھی اس بات پر زور دیا کہ صرف مسلم لیگ ہی ہندوستان کی مسلمانوں کی نمائندہ جماعت ہے، مسلم لیگ کے موقف کی حمایت میں مفتیِ اعظمِ ہند علیہ الرحمۃ کی تارکی خبر اور دیگر علمائے بریلی کا بیان ہفت روزہ ’’الفقیہ‘‘ امر تسر میں بھی منظرِ عام پر آیا۔ ۱۹۴۶ء کے فیصلہ کن الیکشن میں مفتیِ اعظمِ ہند مولانا محمد مصطفیٰ رضا خاں علیہ الرحمۃنے بریلی میں مسلم لیگ کے امیدوارکےحق میں سب سے پہلا ووٹ ڈالا ، لیگی رضا کار انہیں جلوس کی شکل میں ’’مفتیِ اعظمِ پاکستان‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے واپس آستانۂ رضویہ تک لائے۔ اس تاریخی واقعے کو حضرت علامہ مولانا مفتی تقدس علی خاں بریلوی علیہ الرحمۃ نے حضرت علامہ مولانا محمد عبدالحکیم شریف قادری علیہ الرحمۃ کے نام ایک خط میں یوں بیان فرمایا ہے: حضرت مفتیِ اعظمِ ہند قُدِّسَ سِرُّہُ الْعَزِیْز غالباً ۱۹۴۶ء کے الیکشن میں جس میں کانگریس اورمسلم لیگ کا سخت مقابلہ تھا اور یہ فیصلہ ہونا تھا کہ پاکستان بنے یا نہیں ؟ اس میں اوّل ووٹ حضرت کا ہوا ، امیدوار عزیز احمد خان ایڈووکیٹ تھے ، عزیز احمد خان مسلم لیگ کی طرف سے تھے اور ووٹ ڈالنے کے بعد حضرت کو جلوس کی شکل میں مسلم لیگ کےرضا کار ’’مفتیِ اعظمِ پاکستان‘‘کے نعروں کے ساتھ آستانہ شریف پر واپس لائے۔‘‘ (ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور ، اگست ۱۹۹۷ء/ ربیع الثانی ۱۴۱۸ھ، جلد نمبر ۲۷، شمارہ ۱۰، ص ۶۷۔۶۸، بحوالۂ تحشیہ از مفتی عطاء اللہ نعیمی بر تخلیقِ پاکستان میں علمائے اہلِ سنّت کا کردار، ص۱۲۰ تا ۱۲۱) قیامِ پاکستان کے لئے دعائے قطبِ مدینہ: مولانا قطبِ مدینہ حضرت علامہ مولانا شاہ ضیاء الدین احمد قادری رضوی مہاجر مدنی (خلیفۂ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیھما الرحمۃ) قیامِ پاکستان کے دل خواہاں تھے اور اس کے لئے دعا گو رہتے تھے ۔ چناں چہ مولانا نور احمد قادری علیہ الرحمۃ رقم طراز ہیں: ’’تحریکِ پاکستان کے آخری کٹھن مراحل کے وقت آپ کی دعائے مستجاب نے بڑا کام کیا۔ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے سے تقریباً نو دس ماہ قبل جو حج ہوا اوراس حج پر جانے والے برِّصغیر کے ان لوگوں نے جن کے دل میں پاکستان کا درد تھا اور آپ سے عقیدت رکھتے تھے مکۂ معظّمہ سے مدینۂ منوّرہ میں آ کر جب آپ کے ہاں قیام کیا تو آپ سے عرض کیا کہ پاکستان کی تحریک آخری مراحل میں ہے مگر ہند و اور انگریز کاگٹھ جوڑ پاکستان بننے کی راہ میں حائل ہے ۔ دعا فرمائیں کہ مشکل حل ہوجائے اور پاکستان بن جائے ، اس لئے کہ برِّصغیر کے مسلمانوں کی آبرو مندانہ زندگی اسی میں ہے۔ تو آپ نے حرم شریف میں جا کر دعا فرمائی اور پھر ان تمام پاکستان کے متمنّی لوگوں سے آپ نے فرمایا فکر نہ کرو، اِنْ شَآءَاللہُ تَعَالٰی پاکستان ضرور بنے گا اور دنیا کی کوئی بھی دشمن طاقت پاکستان کو بننے سے نہیں روک سکتی۔ چناں چہ پھر ایسا ہی ہوا حضرت قائدِ اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں تحریکِ پاکستان کامیابی سے ہم کنار ہوئی اور پاکستان بن کر رہا۔ پاکستان کے دشمن خائب و خاسر ہوئے۔ تحریکِ پاکستان میں سفیرِ اسلام شاہ عبدالعلیم صدّیقی کا کردار: اعلیٰ حضرت امام احمدرضا فاضل بریلوی کے خلیفۂ اجل اور قائدِ ملّتِ اسلامیہ حضرت علامہ امام شاہ احمد نورانی صدّیقی کے والدِ ماجد سفیرِ اسلام، سفیرِ پاکستان مبلغِ اعظم حضرت علامہ مولانا شاہ محمد عبدالعلیم صدّیقی میرٹھی مہاجر مدنی (رحمۃ اللہ تعالٰی علیھم) کی ’’تحریکِ پاکستان‘‘ میں ناقابلِ فراموش خدمات کا ذکر مولانا صابر حسین شاہ بخاری اِن الفاظ میں کرتے ہیں: مبلغ اسلام علامہ محمد عبد العلیم صدّیقی میرٹھی علیہ الرحمۃنے تقریباً دس سال محکوم ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کےمطالبےکی پر زور حمایت کی اور اس ضمن میں اپنے شب وروز ایک کردیے۔ ۱۹۴۰ء کی قرادادِ پاکستان کی منظوری کے بعد آپ نے قیامِ پاکستان کی تحریک میں نہایت سرگرمی کا مظاہر ہ کیا او ر مختلف بِلاد و امصار کے دورے کر کے علمائے اہلِ سنّت و مشائخِ عظام اور عوام النا س کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ خوابِ غفلت سے بیدار ہو کر مسلم لیگ کے پرچم تلے جمع ہوجائیں تاکہ ان کے حقوق کی بازیابی کے لئے مؤثر انداز میں آئینی جنگ لڑی جا سکے ۔ ۱۹۴۵ء کے اواخر میں انتخابات کے موقع پر جہاں دیگر علمائے اہلِ سنّت ، مسلم لیگ کے انتخابات میں کامیابی کے لئے کوشاں تھے، وہاں مولانا عبدالعلیم صدّیقی علیہ الرحمۃ بھی اس محاذ پر ڈٹے ہوئے تھے۔ آپ نے اکتوبر ۱۹۴۵ء میں بغرضِ حج عازمِ حجاز ہوتے ہوئے مسلمانانِ ہند کے نام ایک مؤثر پیغام دیا، جس کے آخر میں آپ نے کہا کہ تمام برادرا نِ ملّت کو علی العموم وقتِ سفرِ حجازِ مقدس میں یہ آخری وصیت دیتے ہوئے رخصت ہوتا ہوں جس طرح ممکن ہو انتخاباتِ جدید میں تمام اختلافاتِ باہمی کو مٹاکر آل انڈیا مسلم لیگ کی حمایت میں ہمہ تن سر گرم ہوجائیں اور آب نائے تزویر میں آکر اپنے شیرازے کو ہر گز منتشر نہ ہونے دیں۔ یہ ثابت کردیکھائیں کہ مسلمان متحد و متفق ہیں تاکہ جہاں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے ان کی آزاد حکومت ہو ، جس میں نفاذِ قوانین و احیائے تہذیب و معاشرتِ دین کی پوری قوت ان کو ہی حاصل ہو اس کو خواہ پاکستان کا نام دیا جائے یا حکومتِ الٰہیّہ کے لقب سے ملقب کیا جائے۔ (خواجہ رضی حیدر: شاہ عبدالعلیم اور ان کی سیاسی جدو جہد مشمولہ مجلہ مینارِ نور کراچی، نومبر ۱۹۸۰ء،ص ۲۸) مبلغِ اسلام شاہ عبد العلیم صدّیقی میرٹھی علیہ الرحمۃ نے پنڈت نہرو سے ملاقات کے دوران ہندوؤں کی طرف سے مسلمانوں پر ظلم و ستم کےخلاف سخت احتجاج کیا ۔ بمبئی اور مدراس میں تقریریں کر کے مسلمانوں کی ڈھارس بندھائی۔ تحریکِ پاکستان کے خلاف جب کانگریسی لیڈر حشرات الارض کی طرح بیرونی ممالک میں پھیل گئے تو آپ نے انگلینڈ اور مصر میں ان کانگریسی گماشتوں کو اپنی مدلل تقریر سے ناکوں چنے چبوائے۔ (محمد صادق قصوری ، پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری: تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت، مطبوعۂ ادارۂ تحقیقاتِ امام احمد رضا، کراچی، ۱۹۹۲ء، ص ۱۵۹) ۱۹۴۶ء میں معروف آل انڈیا سنّی کانفرنس بنارس میں شرکت فرما کر تحریکِ پاکستان کی ببانگِ دُہل حمایت فرمائی۔ ملک کے طول و عرض میں مسلم لیگ کا پیغام پہنچایا۔ علاوہ ازیں، حج کے موقع پر مسلم لیگ کی طرف سے متعدد عرب ممالک: فلسطین، شام، لبنان، اردن اور عراق وغیرہ کے دورے پر تشریف لے گئے۔ ہندوؤں کے شدید غلط پروپیگنڈے کی بنا پر عالمِ اسلا م کے مسلمان، ہندی مسلمانوں کے خلاف تھے، دنیا میں ہندوستان کی آزادی حاصل کرنے کو ’’دیوانے کا خواب‘‘ سمجھا جاتا تھا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کو ہندوستان ہی میں اتنا کام تھا کہ وہ باہر توجّہ ہی نہ دے سکتے تھے، اس لئے آپ مذکورہ حکام سے ملے ، دانشوروں اور وُکَلا کے سامنے تقریریں کیں اور نظریۂ پاکستان کی وضاحت کی ،جس کے نتیجے میں عرب علما و عوام تحریکِ پاکستان کو صحیح طور پر سمجھنے لگے۔(محمد صادق قصوری، ڈاکٹر مجید اللہ قادری: تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت ، ص ۱۶۰) اس دورے میں عظیم الشان کامیابی کے بعد آپ جب اکتوبر ۱۹۴۶ء میں وطن واپس پہنچے تو کراچی کی بندرگاہ پر مسلمانوں کے ایک کثیراجتماع نے آپ کا والہانہ استقبال کیا اور جمعیتِ سُنّیہ جامعہ قادریہ کراچی نے آپ کے اعزاز میں ایک عظیم الشان سنّی کانفرنس کا انعقاد کیا، جس سے خطاب کرتے ہوئے تحریکِ پاکستان کے عظیم راہ نما مولانا شاہ عبدالعلیم صدّیقی میرٹھی علیہ الرحمۃ نے فرمایا: ’’موجود ہ کانگریسی حکومت کے نظامِ عمل اور ہمارے پاکستانی نطامِ عمل میں ایک ایسا فلک پیما فرق ہے کہ جس کو ہم کسی صورت منظور نہیں کرسکتے ۔ہمارا پاکستانی نظامِ عمل ایک مافوق البشر کا لایا ہوا، سمجھایا ہوا، اور زمانہ ہائے ماضی ، حال و مستقبل کے قدرتی قوانین پر منتج ہے۔ دنیاوی حکومتوں کے قوانین لمحہ بہ لمحہ روز و شب ترمیم و اضافہ کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں مگر اس مافوق الفطرت نبی (یعنی خاتم النبیین والمرسلین حضرت سیّدنا محمد مصطفیٰ ﷺ) کا لایا ہوا قرآنی نظام ِعمل اور قوانینِ حکومت ترمیم و تنسیخ سے مبرا؛ زمانہ ہائے ماضی، حال و مستقبل پر حاوی ہے؛ اس لئے میں مسلمانوں کے مجوّزہ وطن کو ’’قدرتی پاکستان‘‘ کہتا ہوں، جس کی بنیادیں احکامِ قرآنی اور ارشاداتِ مصطفوی پر ہوں گی ہمارے علما و مشائخ نے اپنی روحانی قوت سے خانقاہوں میں خاموش بیٹھے ہوئے ’’پاکستانی لشکر‘‘ کی تعلیم و تربیت کا فریضہ انجام دیا ہے اور وہ میدانِ عمل میں آچکے ہیں اور اب برِّصغیر کے مسلمانوں کی ’’ قدرتی پاکستان‘‘ مقدر بن چکا ہے۔‘‘ (خواجہ رضی حیدر: شاہ عبدالعلیم اور ان کی سیاسی جدو جہد، مشمولۂ مجلّہ مینارِ نور، کراچی، نومبر ۱۹۸۰ء، ص ۲۹) قیامِ پاکستان کے بعد قائدِ اعظم علیہ الرحمۃ کی طرف سے علامہ محمد عبدالعلیم صدّیقی میرٹھی علیہ الرحمۃ کو اسلامی ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کا فریضہ سونپا گیا۔ آپ نے بین الاقوامی سطح پر تبلیغِ اسلام کے ساتھ ساتھ تحریکِ پاکستان کے اغراض و مقاصد پر طویل لیکچرز دے کر اس کی اہمیت کو اجا گر کیا۔ قائدِ اعظم علیہ الرحمۃ نے آپ کی انھی اسلامی اور ملّی خدمات کے پیشِ نظر آپ کو ’’سفیرِ اسلام‘‘ کا خطاب دیا۔ پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم لیاقت علی خاں مرحوم کی دعوت پر آپ اپنی تبلیغی مصروفیات کو مختصر کر کے پاکستان تشریف لائے، قیامِ پاکستان کے چند دنوں بعد کراچی میں سرکاری سطح پر نمازِ عید پڑھائی اور خطبہ ارشاد فرمایا ۔ بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح علیہ الرحمۃ، شہیدِ ملّت لیاقت علی خاں مرحوم اور دوسری اہم سرکاری وغیر سرکاری شخصیات نے علامہ شاہ عبدالعلیم صدّیقی علیہ الرحمۃ کی اقتدا میں نمازِ عید پڑھنے کا شرف حاصل کیا۔(محمد سلیم مست قادری: مبلغِ اسلام اورروحانی پیشوا،فیصل آباد ، ۱۹۸۹ء ) حضرت علامہ مولانا سیّد شاہ تراب الحق قادری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنے ایک خطاب:’’ تخلیقِ پاکستان میں علمائے اہلِ سنّت کا کردار‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’جب پاکستان کی تحریک چلی تو بانیِ پاکستان نے پوری دنیا میں پاکستان کو متعارف کرانے کے لئے کس کو بھیجا؟؟ حضرت مولانا عبدلحامد بدایونی علیہ الرحمۃ کو بھیجا ، دوسرے حضرت علامہ مولانا شاہ عبدالعلیم صدّیقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ۔ یہ دونوں پاکستان سے باہر گئے۔ خصوصاً مولانا عبدالعلیم صدّیقی علیہ الرحمۃ نے عرب کا دورہ کیا۔ یہ سارا دورہ کرنے کےبعد لوگوں کو متعارف کرایا کہ پاکستان کیا ہے؟؟ مسلمان پاکستان کو کس لئے بنانا چاہتے ہیں؟؟ اخبار شاہد ہیں کہ جناح صاحب نے شکریہ ادا کیا اور ان کو تحریکِ پاکستان کی خدمت میں ’’سفیرِ اسلام‘‘ کا لقب دیا اور کہا کہ مولانا عبدالعلیم صاحب آپ کو جو ذمّے داری دی گئی، آپ نے اس کو کَمَا حَقُّہٗ انجام دیا۔‘‘ (تخلیقِ پاکستان میں علمائے اہلِ سنّت کا کردار، مشمولۂ ماہ نامہ مصلح الدین کراچی، اگست ۲۰۱۰ء، ص ۱۰۴ تا ۱۱۰) پاکستان سے مبلغِ اسلام علامہ عبدالعلیم صدّیقی علیہ الرحمۃ کو نہایت والہانہ محبّت تھی، اس کا اظہار آپ کی اس دعا سے بھی ہوتا ہے: ’’اے عظمت والے! اے عزّت والے! اے غلاموں کے سر پر تاجِ عزّت رکھنے والے! اے بے پناہوں کو پناہ دینے والے! سن لے ! ہم بے کسوں کی، بے بسوں کی سن لے! ہم سیہ کاروں کے سبب اپنے دین کو بدنام نہ ہونے دے، دین کی عزّت رکھ لے، عَلمِ توحید کو سرنگوں نہ ہونے دے، ہمیں قوت دے ، طاقت دے، عزّت دے، حمیت دے ، غیرت دے۔ برِّ صغیر ہند میں جو چھوٹی سی آزاد خود مختار ’’پاکستانی حکومت ‘‘ تو نے اپنے فضل سے عطا فرمائی ہے۔ اس کی حفاظت فرما ، اسے قوی سے قوی تربنا اور صحیح معنیٰ میں اسلامی دولت، اسلامی سلطنت اور الٰہی مملکت بنا، جہاں تیرا قانون، تیرے احکام جاری ہوں، تیرے دین کا علم بلند ہو اور تیرے نام کا ابدالآباد تک بول بالارہے۔ مولیٰ! مولیٰ! اے رحم و کرم والے مولیٰ! ہماری دعائیں قبول کر!‘‘ (علامہ شاہ محمد عبدالعلیم صدّیقی: ذکرِ حبیب ، ۱۹۸۵ء، ص ۱۴۳) مبلغِ اعظم حضرت شاہ محمد عبدالعلیم صدّیقی کے فرزندِ ارجمند قائدِ ملّتِ اسلامیہ حضرت امام شاہ احمد نورانی صدّیقی(رحمۃ اللہ تعالٰی علیھما) نے بھی اپنی نوجوانی کے دنوں میں تحریکِ پاکستان کے لئے اپنی خدمات انجام دیں، مختلف جلسوں میں تقاریر کے ذریعے، نیز مسلم طلبہ کی ایک تنظیم قائم کرکے تحریکِ پاکستان کو تقویت پہنچائی۔ صدر الافاضل نے علامہ اقبال کی رائے کی تائید فرمائی: صدر الافاضل حضرت علامہ سیّد محمد نعیم الدین مرادآبادی (خلیفۂ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں رحمۃ اللہ تعالٰی علیھما) نے تحریکِ پاکستان میں نہایت اہم اور نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ نے جہاں آل انڈیا سنّی کانفرنس کے تحت بہت سے اجلاسوں کے ذریعے تحریکِ پاکستان کو بہت زیادہ تقویت دی، وہاں۱۹۳۰ء میں جب حکیم الامّت علامہ اقبال (۱۸۷۷ء ۔۱۹۳۸ء) نے اپنے خطبۂ الٰہ آباد میں تقسیمِ ہند کی بات کی تو آپ نے علامہ اقبال کی رائے کی بھرپور تائید فرمائی۔ چناں چہ اُس وقت کے ماہ نامہ ’’السواد الاعظم ‘‘ کے ایک شمارے میں اَفکار ِ اقبال کی تائید کرتے ہوئے، حضرت صدرالافاضل علیہ الرحمۃ رقم طراز ہیں: ’’ڈاکٹر اقبال کی رائے پر کہ ہندوستان کو دو حصّوں میں تقسیم کر دیا جائے ایک حصّہ ہندوؤں کے زیرِ اقتدار ہو، دوسرا مسلمانوں کے، ہندوؤں کو کس قدر غیظ آیا ، یہ ہندو اخبارات دیکھنے سے ظاہر ہوگا۔ کیا یہ کوئی ناانصافی کی بات تھی؟ اگر اس سے ایک طرف مسلمانوں کو کوئی فائدہ پہنچتا تھا، تو ہندوؤں کو بھی اس نسبت سے نفع ملتا۔ اس کو تو کون جانتا ہے کہ پردۂ غیب سے کیا ظاہر ہوگا اور مستقبل کیا صورتیں سامنے لائے گا؟ لیکن ہندو اس وقت خالی بات بھی نوکِ زبان پر لانے کو تیار نہیں، جو مسلمانوں کو اچھی معلوم ہو، اس حالت میں بھی کوئی مسلمان کہلانے والی جماعت ہندوؤں کا کلمہ پڑھتی ہے اور اپنی اس پرانی فرسودہ لکیر کو پیٹا کرے تو اس پر ہزار افسوس! کاش اس وقت یہ حضرات خاموش ہو جائیں اور کام کرنے والوں کو کام کر لینے دیں۔‘‘ تقسیمِ ہند کی تائید کرتے ہوئے اسی ماہ نامے میں ایک اور جگہ لکھتے ہیں: ’’جب ہندو اپنی حفاظت اس میں سمجھتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے محلوں سے علیٰحدہ ہو جائیں اور اپنے حدود علیٰحدہ کر لیں تو مسلمانوں کو یقیناً ان کے محلوں میں جانے اور ان کے ساتھ کاروبار رکھنے سے احتیاط رکھنا چاہیے۔ دونوں اپنے اپنے حدود جدا گانہ قرار دیں اور اس نقطے کو ملحوظ رکھ کر سیاسی مباحث کو طے کر لیں، یعنی ہندوستان میں ملک کی تقسیم سے ہندو مسلم علاقے جدا جدا بنا لیں تاکہ باہمی تصادم کا اندیشہ اور خطرہ باقی نہ رہے۔ ہر علاقے میں اسی علاقے والوں کی حکومت ہو، مسلم علاقے میں مسلمانوں کی اور ہندو علاقوں میں ہندوؤں کی۔‘‘ (ماہ نامہ السواد الاعظم ، مرادآباد ،شعبان المعظّم، ۱۳۴۹ء/جنوری ۱۹۳۱ء، بحوالۂ تحریکِ پاکستان اور علماء کرام، محمدصادق قصوری، ص۱۴۴ تا ۱۴۵) تحریکِ پاکستان اور صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے خلیفہ ، مصنّفِ ’’بہار ِ شریعت ‘‘ صدر الشریعہ حضرت علامہ محمد امجدعلی اعظمی علیہ الرحمۃ دو قومی نظریے کے عظیم مبلغ اور راہ نما تھے، مارچ۱۹۲۱ء (۱۳۳۹ھ) میں بریلی میں جمعیت العلمائے ہند کا اجلاس منعقدہوا، جس میں ابو الکلام آزاد، کے علاوہ دوسرے لیڈر بھی شریک ہوئے جمعیت کے لیڈر اس جوش و خروش سے آئے تھے کہ گویا ’’ہندو مسلم اتحاد ‘‘ کے مخالف علمائے اہلِسنّت کو لاجواب کر دیں گے، مولانا محمدامجد علی اعظمی علیہ الرحمۃنے جماعتِ رضائے مصطفیٰ بریلی کے شعبۂ علمیہ کے صدر کی حیثیت سے اراکینِ جمیعت ہندوؤں سے اتحاد کے بارے میں ستّر سوالات (اتمامِ حجتِ تامّہ) مرتّب کر کے قائدینِ جمیعت کو بھجوایا، بار بار اصرار اور مطالبے کے باوجودانہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ اعلیٰ حضرت محدثِ بریلی علیہ الرحمۃکے پچیسویں عرسِ مبارک منعقدہ ۲۳تا ۲۵؍ صفر المظفر ۱۳۶۵ھ/ ۲۸ تا ۳۰؍ جنوری ۱۹۴۶ء کو بریلی شریف میں تحریک ِ پاکستان کی راہ ہموار کرتے ہوئے صدر الشریعہ علیہ الرحمۃنے فرمایا: ’’ہماری تمام سنّی کانفرنسیں جو ملک کے گوشے گوشے میں، ہر ہر صوبے میں قائم ہیں، کانگریس کے مقابلے میں پوری جدو جہد کر رہی ہیں، چناں چہ پچھلے الیکشن میں ان کانفرنسوں کی کوششیں کامیاب ہوئیں اور کانگریس کو شکست ہوئی، سنّی کانفرنس کی کوششیں بہت مفید ثابت ہوئیں ، اس وقت ہم پھر یہی اعلان کرتے ہیں کہ مسلمان کانگریس کو اور کانگریس کے کھڑے ہوئے امید وار کو کانگریس کی حامی جماعتوں جمعیتِ علما دیوبندی پارٹی مولوی حسین احمد کے زیرِ اثر طوفان بر پا کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ احرار وخاکسار یونینسٹ وغیرہ جن سے کانگریس کو مدد پہنچ رہی ہے یا جو کانگریس کی ہوا خواہی میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں، مسلمان ہرگز ان کی فریب کاری میں نہ آئیں۔‘‘ اپریل ۱۹۴۶ء میں بنارس کے مقام پر منعقد عظیم الشان ’’سنّی کانفرنس‘‘ کو قیامِ پاکستان کی بنیاد کی حیثیت حاصل ہے، اس میں اسلامی حکومت کے لئے لائحۂ عمل مرتّب کرنے کے لئے جلیل القدر علما کی ایک کمیٹی بنائی گئی، جس کے ممتاز اراکین میں حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ شامل تھے۔ (ماہنامہ ضیائے حرم لاہور ، اگست ۱۹۹۷ء/ ربیع الثانی ۱۴۱۸ھ ، جلد نمبر ۲۷، شمارہ ۱۰، ص ۶۱ تا ۶۲، بحوالۂ تحشیہ ازمفتی عطاء اللہ نعیمی بر تخلیقِ پاکستان میں علمائے اہلِ سنّت کا کردار، ص۱۲۱ تا ۱۲۲) تحریکِ پاکستان میں خانقاہِ گولڑہ وغیرہ کا کردار: قبلۂ عالم حضرت پیر سیّد مہر علی شاہ گولڑی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ (متوفیٰ ۱۹۳۷ء) کے فرزندِ ارجمند حضرت پیر سیّد غلام محی الدین گولڑوی (متوفیٰ ۱۹۷۴ء) کی تحریکِ پاکستان میں خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے نامور صحافی اور تحریکِ پاکستان کے مجاہد میاں محمد شفیع المعروف م ش(متوفیٰ ۱۹۹۳ء) نوائے وقت ، لا ہور بابت ۲۶ جون ۱۹۷۴ء میں رقم طراز ہیں: ’’وہ ایک عجیب حقیقت ہے کہ جو اس صدی کی پانچویں دہائی میں بر ِّ صغیر میں معرکۂ حق و باطل بپاہوا اور مسلمانوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے اسلام کی سربلندی کے لئے حقِّ خود ارادیت کا عَلم بلند کیا تو پنجاب کے جن سجادوں نے تن من دھن سے قائدِ اعظم کا ساتھ دیا ان میں تونسہ شریف (خواجہ غلام سدید الدین)،سیال شریف (خواجہ محمد قمر الدین)، جلال پور ( پیر سیّد فضل شاہ) اور گولڑہ شریف ( پیر سیّد غلام محی الدین عرف بابو جی) پیش پیش تھے۔ انہوں نے اپنے لاکھوں مریدوں کو عام انتخابات کے موقع پر یو نینسٹ پارٹی کے مقابلے پر مسلم لیگ کے امیدواروں کو کامیا ب بنانے کی اپیل کی۔ ان لوگوں کے عظیم کردار کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر چہ یونینسٹ پارٹی کے اس وقت کے لیڈر ملک سرخضر حیات خاں ٹوانہ، گولڑ شریف اور سیال شریف سے ارادت رکھتے تھے، لیکن عظیم تر ملی مقاصد کے پیشِ نظر خواجہ محمد قمر الدین صاحب اور خواجہ سیّد غلام محی الدین شاہ صاحب نے پوری ہمت سے مسلم لیگ کے لئے کام کیا۔‘‘ (محمد صادق قصوری: تحریکِ پاکستان اور مشائخِ اعظم ، ص۲۴۸ تا ۲۴۹) قائدِ اعظم کا لقب: شہیدِ ملّت مولانا محمد مظہر الدین بن شیخ علی بخش شیر کوٹی مسلم لیگ کے فعال کارکن تھے، ان کے متعلق ممتاز محقق خواجہ ظفر نظامی اپنے مضمون: قائدِ اعظم ، چند دل چسپ اور یاد گار تحریریں ، مطبوعہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ لاہور مؤرّخہ ۲۵؍ دسمبر ۱۹۷۶ء میں یوں رقم طراز ہیں: ’’محمد علی جناح کے لئے ’’قائدِاعظم ‘‘ کا لقب سب سے پہلے مولانا مظہر الدین نے استعمال کیا۔ وہ دہلی سے سہ روزہ ’’الامان‘‘ شا ئع کرتے تھے۔ مولانا سیاسی پالیسی کے اعتبارسے کٹر مسلم لیگی تھے ۔ آپ کے اخبارات کانگریسیوں اور نیشنلسٹ علما کی مخالفت کے لئے ہمیشہ وقف رہتے تھے اور ان وُجوہ کے باعث آپ کے مخالفین کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ چناں چہ مارچ ۱۹۳۹ء میں کسی نے اُن کو شہید کر دیا۔ مولانا اپنے اخبار مین پٹنہ اجلاس (۱۹۳۸ء) سے کئی ماہ قبل ’’محمد علی جناح ‘‘کے ساتھ (قائدِ اعظم )کا لقب استعمال کر رہے تھے۔اسی کے جواب ’’محشرِ خیال‘‘(کانگریسی، ماہ نامہ، دہلی) ستمبر ۱۹۳۸ء میں طنزاً قائدِ اعظم کا لفظ شائع کیا گیا اور اس کے ایک ماہ بعد پٹنہ میں مسلم لیگ کا اجلاس ہوا تو میاں فیروزالدین احمد نے ’’قائدِ اعظم زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگا کر ، اس لقب کو تمام برِّ صغیر میں مشہور کر دیا۔‘‘( محمد صادق قصوری: تحریکِ پاکستان اور علمائے کرام ، ص ۱۰۴ تا ۱۰۶)
---
تحریر: ندیم احمد نؔدیم نورانی