ممتازقادری کی شہادت ناموسِ رسالت کے تحفظ کا پیغام صہیونی عزائم کی شکست NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 1397 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



ممتازقادری کی شہادت ناموسِ رسالت کے تحفظ کا پیغام صہیونی عزائم کی شکست
بقلم: غلام مصطفی رضوی
نوری مشن، مالیگاؤں

اسلام کی سیرابی لہو سے ہوئی ہے۔ ہر دور میں ناموسِ رسالت کے جاں نثاروں نے جانیں نچھاور کی ہیں۔وفا کی تاریخ مرتب کی ہے۔ گلشنِ اسلام تازہ ہواہے۔ متاعِ عشق لوٗٹنے والے جسے ظاہری کامیابی سمجھتے ہیں وہ در حقیقت ان کی شکست ہے۔ نظامِ قدرت ہے کہ شہادتوں کی منزلوں نے یزیدیت کو ہمیشگی کی شکست سے دوچار کیا ہے۔ غازیانِ ناموسِ رسالت نے ایمان کی فصل کو سرسبز وشاداب کیا ہے۔ مشنِ عشق رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم فروزاں ہوا ہے۔ مستقبل کے لیے عزائم جواں ہوئے اور ہر خرمنِ باطل کے لیے عشاقِ بارگاہِ رسالت کا ذوقِ جنوں خیز سوہانِ روح ثابت ہوا۔
۲۹؍ فروری کی صبح نمودار ہوئی۔ بہ ظاہر روح فرسا صبح تھی۔ لیکن صبحِ درخشاں تھی۔ متاعِ عشقِ رسول پر جاں نثاری کی تاریخ مرتب کرنے والے شیرِ حق غازی ممتاز قادری شہید کو پھانسی دے دی گئی۔ ایک شہادت نے ہزاروں غازیوں کے لیے راہ ہم وار کردی۔ ایک جان نچھاور ہوئی۔ ہزاروں عشاقِ رسول ’’غازی ممتاز‘‘ کو نمونہ بنا چکے۔ ممتاز قادری- آئیڈیل ہیں؛ عشقِ رسول کا آئیڈیل،حق کا آئیڈیل، صداقت و سچائی کا ممتاز آئینہ جس نے ’’فتح‘‘ حاصل کر لی۔ شہادت ہی مطلوب و مقصود تھا اس مردِ آہن کا۔ اور بتا دیا :
کہ کٹ سکتاہے سر خوددار کا پر جھک نہیں سکتا
شہادت کی شب بھی شبِ تابندہ تھی۔ جیل کے در و دیوار ممتاز نغموں سے گونج رہے تھے۔ صبح کامیابی کا پیغام لانے والی تھی۔ خوشی کے دیپ عاشقِ صادق کے طاقِ دل پر روشن تھے۔ اور لبوں پر ذکرِ محبوبِ رب العالمین کے روشن حروف جگ مگ؛ جگ مگ کر رہے تھے:
یارسول اللہ! تیرے چاہنے والوں کی خیر
جینے کی آرزو سب کرتے ہیں۔ مرنے کی آرزو جگر کی بات ہے۔جینے سے زیادہ مرنا ممتاز و عزیز ہونا یہ کم ہی کے نصیب میں ہوتا ہے۔ سبحان اللہ! کیسی عظیم موت جو حیاتِ تابندہ سے زیادہ مکرم و محتشم!ایک تاریخ مرتب کردی ممتاز قادری شہید نے۔ان کی تمنائے دلی بار آور ہوئی۔ خطِ امتیاز ہے ممتاز کی شہادت۔ اب ہر بزمِ محبت رسول میں ممتاز قادری کی شہادت کاذکر ہوگا۔ قافلۂ اُلفت و محبت کی منزل کے متلاشیان کا نشانِ امتیاز نقوشِ ممتاز ہی ہے۔عقیدتوں کا یہ سفر فضلِ ایزدی سے جاری رہے گا۔ راہِ حق کی مسافرت کا ’’امتیاز-ممتاز‘‘ ہے:
صدیوں میں نور جائے گا اس شیر مرد کا
اب بن گیا ہے عشق کا مینار قادری
ہم کہہ رہے ہیں حاکموں سے خوب جان لو
اب ہر گلی میں پاؤ گے تیار قادری
وہ علمائے حق تھے۔ جنھوں نے ہر محاذ پر غازی ممتازکی تائید و حمایت کی۔ تین دہائی قبل علمائے اہلِ سنّت کی کوششوں سے ’’تحفظ ناموسِ رسالت‘‘ کے لییپاکستان میں قانون تشکیل پایا۔ جس کی رو سے گستاخِ رسول بالخصوص منکرِ ختم نبوت کافر و گردن زدنی قرارپایا۔ سلمان تاثیر جو اس وقت پنجاب کا گورنر تھا؛ نے اس قانونِ برحق کو ’’کالا قانون‘‘ کہا۔ ناموسِ رسالت کے تحفظات پر زہریلی زبان کھولی۔ ممتاز قادری نے اسے سمجھایا۔ ممتاز قادری اس کے محافظ تھے۔ لیکن! جب قانونِ تحفظِ ناموسِ رسالت کی بقا و حفاظت خطرے میں آئی تو اس مردِ حق آگاہ نے ایسے گستاخ کو جہنم کی وادیوں میں ہمیشہ کے لیے پہنچا دیا۔ انھوں نے وہ کیا جس کی تمنا دلوں میں بستی ہے لیکن یہ سعادت سب کے حصے میں کہاں! بقول خلیفۂ تاج الشریعہ و شیخ الاسلام؛ مفتی ذوالفقار خان نعیمیـ:
باطل کے فاش کر کے سبھی راز چل دیے
حق کی بلند کر کے وہ آواز چل دیے
تاثیر کو دے کر سزا توہینِ نبی کی
جنت کی طرف حضرتِ ممتاز چل دیے
اسلام کے نام پر بننے والی مملکت اسلامی عظمتوں کا خوں کر رہی ہے۔ صہیونی پنجے میں مکمل طور پر پاکستان جکڑا ہوا ہے۔ دہشت گرد کھلے پھر رہے ہیں۔ انھیں در پردہ حمایت ہے۔ ناموسِ رسالت کے دُشمن اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔آج جن کے ذریعے دُنیا امن و امان کا گہورا ہے؛ وہی دہشت زدہ ہیں۔ اہلِ سنت کی محافل ان کے نشانوں پر ہیں۔ اور چمن پر زاغوں کا بسیرا ہے۔ ممتاز قادری کو سزائے موت سے ہم کنار کیا جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ ناموسِ رسالت کے تحفظ کا قانون صرف کاغذ پر ہے، ناموسِ رسالت کے غدار امریکہ و صہیونیت کے ہاتھوں قوم کا سودا کر چکے ہیں۔ بے غیرت حکمرانوں نے عاشقوں کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے۔ اہلِ سنّت امن کے داعی ہیں۔ محبتوں کے مبلغ ہیں۔ اُلفتوں کے سفیر ہیں۔ لیکن! جب بھی ناموسِ رسالت پر جرأت وجسارت ہوگی ان شاء اللہ!ہر عاشقِ رسول ممتاز قادری بن کر اپنے لہو کے نذرانے بارگاہِ رسالت میں شاداں و فرحاں پیش کر دے گا! ایک ممتاز کی شہادت ’’صبحِ تاباں‘‘ کا استعارہ بن چکی ہے! یہ فتح ہے عشق کی، یہ شکست ہے باطل کی، یہ فتح ہے اسلام کی، یہ شکست ہے طاغوت کی۔ عشق سے جہاں اقتدار ٹکرایا ہے؛ پاش پاش ہوا ہے۔ ہوس کے اَسیروں کی جب آنکھ کھلے گی تب دیر ہو چکی ہو گی۔ ہر بزم میں ممتاز ہی نظر آئے گا۔ ہر گلی ممتاز کے امتیازِ شہادت کی گواہی دے گی۔ تاج الشریعہ نے جو پیغام دیا ہے اس کی تعبیر و تشریح ممتاز قادری نے خوب خوب کی ہے:
نبی سے ہو جو بیگانہ اسے دل سے جدا کردیں
پدر، مادر، برادر، مال و جاں ان پر فدا کردیں
ممتاز قادری کی شہادت کا تقاضا ہے۔ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جذبات پروان چڑھائے جائیں۔ دلوں کے طاق پر محبت و عشقِ رسالت کے چراغ روشن کیے جائیں۔ خاکِ حجاز کا سرمہ نگاہوں میں پہنا دیا جائے تاکہ دانشِ فرنگ کے جلوے نگاہوں کو خیرہ نہ کرسکیں اور حیات کا غازہ نہ چھین سکیں۔ سلام ہو شہادتِ ممتاز پر۔ غازی ہی سُرخ رُو ہوتا ہے۔ ممتاز عظمتوں کا نشاں ہے، ممتاز ایک دور کا نام ہے، ایک فکر کا نام ہے۔ جو زندہ رہے گی، جو خوابیدہ روحوں کو بیداری کا پیام دیتی رہے گی۔ جو قوم کے مُردہ جسموں میں حیات کی روح پھونکتی رہے گی:
زندہ ہو جاتے جو مرتے ہیں حق کے نام پر
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا
٭٭٭
[email protected]