منصب امامت اور اس کی عظمت (قسط سوم) NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 489 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



امام کے اوصاف:قسط سابق میں آپ نے پڑھا تھا کہ اس زمانے میں نسل کا مزاج تبدیل ہوا ہے اوروہ بغیر دلیل و حوالہ کے کوئی بات ماننے کو تیار نہیں ہوتی اس چیلنج کے پیش نظرمسجد کے امام کو کئی قسم کے علوم سے آراستہ ہونا ضروری ہے ۔ مثلاً قرآن ، حدیث، تفسیر، فقہ اور تاریخ کا معتدبہ علم اس کے ساتھ عربی زبان کی معرفت اور حالات زمانہ سے واقفیت ہونا بھی نا گزیر ہے موجودہ ابھرتے ہوئے مسائل(کرنٹ اشوز) فرقہائے باطلہ کی جانب سے کئے جانے والے اعتراضات اور ان کے بچھائے ہوئے جالوں پر مطلع ہونا بھی ایک امام کے لئے نہایت ضروری ہے تاکہ وہ معترضین کو مطمئن کر سکےاور مطمئنین کو آگے کا راستہ بھی دکھا سکے ۔
یہ معلومات اس وقت امام کے لئےبڑی فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں جب وہ جمعہ کے دن تقریر کی صورت میں لوگوں کی اصلاح کرتا ہےانہیں دینی اور دنیوی حیات کی راہیں سجھاتا ہےلوگوں کے دلوں میں اسلام کی قدریں راسخ کرتا ہے ان کے عقیدہ وعمل کی درستگی میں کوشاں ہوتا ہے۔ اگر امام مذکورہ اقدارسے تہی دامن ہوتا ہے تووہ اپنے فرض کی ادائیگی ،ذمہ داری سے سبکدوشی میں کمزور ثابت ہوتا ہےجس کا نقصان اسلام اور مسلمانوں کو بھگتنا پڑتا ہے یہ وہ خصلتیں ہیںجنہیںامام کی صفات علمیہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے ’’ فاعلم انہ لاالہ الااللہ واستغفر لذنبک و للمؤمنین ‘‘کے مطابق عملی خوبیوں پر مقدم ہوتی ہیں کیوں کہ عمل علم کے بعد ہوتا ہے ان کے ساتھ امام میں کچھ اور خوبیاں بھی درکار ہیںجنہیں صفات عملیہ سے تعبیر کیا جاتاہے۔
صفات عملیہ میں اخلاص عمل سب سے بنیادی خوبی ہےکہ ہر کام رضائےالہی کے لئے ہو حصول شہرت ، طلب جاہ اور دنیوی برتری کی تمنا سے اس کا دور تک کوئی ناطہ نہ ہو، وہ حضور ﷺ کا متبع کامل آپ کے اقوال و افعال پر عمل کرنے کا حریص ہو۔ اصلاح باطن، عفت زبان، غیر ت نفس ، حیاء اسلامی ، خشیت الٰہی ، جودت اخلاقی، حسن تعامل، تواضع ذاتی اور صبر آزمائی میںاسلاف کرام کی زندہ تصویر ہو خلق سے بے نیاز ہوکر خالق پر کامل بھروسہ رکھتا ہو ہمیشہ اسی کی پناہ کامتلاشی ہوہمہ وقت اس کے دل میں مسلمان بھائیوں کے لئے رحمت و رافت ، الفت و شفقت کے سوتےپھوٹتے ہوں، ان پر نصیحت ارزانی کرتا ہو، اپنی دعاؤں میںمسلمانوںکو فراموش نہ کرتاہو، اس کے حسن عمل سے یہی ظاہر ہو ’’ان ارید الاالاصلاح ما استطعت وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب‘‘
امام ایک قائد بھی ہے اس لئے اس میں صفات قیادت کا موجود ہونا بھی لازم ہےلہٰذا امام شخصیت کے اعتبار سے قوی ،دل کے اعتبار سے جری، ارادے میں پختہ ، رائے میں صائب، نظر دور اندیش، فکر گہری محفوظ اور مضبوط ،سستی سے دور ، افکار واقوال و اعمال کو ترتیب دینے میں ماہر اورمشاورت کاعادی ہوان خوبیوں کی جانب آیت کریمہ ’’ الَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰہِ وَ یَخْشَوْنَہٗ وَلَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰہَ ط وَکَفٰی بِا للّٰہِ حَسِیْبًا‘‘ میں اشارہ موجود ہے۔
ذمہ داری کا احساس: یوں تو ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ سپرد کی گئی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی سعی کرے اور کبھی بھی اس سے غافل نہ ہو خصوصاًاس وقت جبکہ اسے اس ذمہ داری کی ادائیگی پر معاوضہ بھی مل رہا ہو۔امام تو لوگوں کے لئے نمونۂ عمل ہوتا ہے اسے اپنی ذمہ داری سے غافل ہوناکیوںکر روا ہو سکتا ہے ۔اسے اس بات کا یقین جازم ہوناچاہئےکہ اگر اس نے اپنی ذمہ داری نبھانے میں کسی قسم کی کمی کی تو اسکی پرسش اللہ تعالیٰ کے دربار میں ضرور ہوگی اتنا ضرورہے کہ ذمہ داری کا تعلق قدرت و وسعت سے ہے’’ لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا‘‘ لہٰذا امام اور مسجد کے ارکان سب پر لازم ہیں کہ تقرری کے وقت غور و فکرکرکے ذمہ داری وسعت و قدرت کے اعتبار سے طے کریںتاکہ ان کو ادا کیا جا سکےجب ذمہ داری طے ہو جائیں اور ان پر حاصل ہونے والا وظیفہ بھی متعین ہو جائے تو پھر طےشدہ کاموں میں سستی یا ان کی انجام دہی سے پہلو تہی ایک غیر اسلامی عمل قرار دیا جائےگا اور ایسا کرنے والا اس امانت کو ضائع کرنے والا کہلائےگا جو اس کے سپرد کی گئی ہے بلکہ یہ قوم کےلئے برا نمونہ ثابت ہوگااگر کسی نے اس کی اقتداءکرتے ہوئے یہی بری عادتیں اپنا لیں تو اس کا وبال بھی اس کے سر آئےگا۔
دلوں پر حکومت: جب امام خلوص و للہیت کے ساتھ اپنی منصبی ذمہ داری ادا کرتا ہے تو لوگوں کے دل اس کی طرف جھکتے ہیں وہ لوگوں کے دلوں پر حکومت کرنے لگتا ہےامام لوگوں کے اس جھکاؤ اور قلبی میلان کو اپنے لئے نہیں بلکہ دین کے لئے استعمال کرتا ہے۔ جب یہ کیفیت پیدا ہو جاتی ہے تو دین کے بڑے بڑےکام بھی بڑی آسانی کے ساتھ انجام پانے لگتے ہیں۔ مثلاًکسی غریب کی مدد کرانا، محلہ یا شہر میں کسی دینی جلسہ کا انعقاد کرنا، کسی مسجد یا مدرسے کا تعاون کرانا وغیرہ۔ ہمارے بعض ائمہ حضرات کسی دینی ادارےکے تعاون کا اعلان کرنے سے نہ صرف یہ کہ گھبراتے ہیں بلکہ وہ اپنے طرز عمل سے یہ ظاہر کرتے ہیںکہ انہیں یہ فعل سخت نا پسند ہے اور اس وقت وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ خود بھی کسی ایسےادارے کے پروردہ ہیں جسکا انتظام ایسے ہی چلتا تھا جس کی بدولت ہی آج انہیں یہ عزت و عظمت اور سطوت وشوکت حاصل ہےکہ اگر وہ اپنے لب وا کر دیں تو کسی غریب کے لئے نان شبینہ کا انتظام ہوگاـ،اللہ کے گھر کا کام ہوگا،کسی دینی ادارے کا بھلا ہوگا۔میں فراڈیوں کی سفارش نہیں مستحقین کی بات کر رہا ہوں۔ہر انسان کی نظر میں کچھ لوگ کچھ تنظیمیں کچھ ادارے ضرور معتبر ہوتے ہیں اور پھر پورا جہان فراڈیوں،حرام خوروں سے تونہیں بھرا ہےجب اہل محلہ کے دل امام کے طرف جھکنے لگتے ہیں تو یہ وقت دعوت وتبلیغ کے لئے بہت موزوںہوتا ہے اس وقت اسے چاہئےکہ اہل محبت کے اندر مسجد میں حاضر ہونےاور با جماعت نماز کی محافظت کا جذبہ پیدا کرے۔ ان کے سامنے قرآن و حدیث کے اقتباسات اور اسلاف کے ایسے واقعات پیش کرے جس سے قوم کا اعتقاد پختہ اور عمل صالح ہو اور ہمیشہ ان کی خیر خواہی امام کا وطیرہ ہو ۔
لا یعنی چیزوں سے پرہیز:مذہب اسلام نے اپنے ماننے والوں کو عبث سے سختی کے ساتھ روکا ہے چاہے عبث از قبیل افعال ہو یا اقوال ہر قسم کا عبث ممنوع اور سخت ممنوع ہے اور اللہ تعالیٰ نے عبث سے بچنے والے بندوں کی تحسین فرمائی ہے:’’ قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ، الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلَا تِھِمْ خَاشِعُوْنَ۔ وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ‘‘ لہٰذا امام کا قوم کے ساتھ عبثیات (لایعنی چیزوں)میں مشغول رہنا بڑا ہی لائق مذمت عمل ہے جسے کسی بھی زاویہ فکر سے صحیح نہیں کہا جا سکتا کبھی کبھی دیکھنے اور سننےمیں آتا ہے کہ بعض ائمہ اپنے مقتدیوں کے ساتھ کھیل کود میں مشغول ہو جاتےہیںاور بعض T.V.،پرکرکٹ میچ وغیرہ بڑے شوق سے دیکھتے ہیں یہ چیزیں اگرچہ ظاہر میں برداشت کرلی جائیں لیکن انکا انجام کسی حال میں بھی محمود نہیں، اس کا سب سے بڑا نقصان تو امام کو یہ جھیلنا پڑتا ہے کہ وہ مقتدیوں کے دلوں سے اپنادینی رعب اور عالمانہ وقار کھو دیتا ہے جو حقیقت میں اس کی بہت بڑی پونجی تھی ۔ نتیجۃً اس میں ایک خاص قسم کی کمزوری پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ حق بات بولنے سے جھجھک اور خوف محسوس کرتا ہے اور اس بچکانہ حرکت کا اخروی خسران بہر حال باقی ہے: ’’ الا من رحم ربی‘‘
گفتگو کا انتخا ب :جب کو ئی انسان دو سرے سےبا ت کرےتو اسے اپنی حیثیت اور رشتہ ملحوظ خا طر رکھ کر ہی گفتگو کر نی چا ہیے مثلا ایک شاگر د اپنےاستا ذ سے با ت کر ے تو اس رشتے کا پو را پا س رکھے جو اسے اپنے استا ذ کے سا تھ حا صل ہے ۔اب اما م کوغو ر کرنا چاہیے کہ اس کا اپنے مقتد یو ں سے کیا رشتہ ہے ۔ہم پہلے بتا آے ہیں کہ امام نمازیوں کہ لئےمصلح مربی اور قائد ہے اور نماز کو کامل طور پرادا کرانے کا ذمہ دارہے وغیرہ تو اس کواسی تناظر میں اپنی گفتگو کا مر کز ومحور متعین کر نا چا ہیے ،امام مقتدی کانہ تو چا رٹیٹ اکا ؤنٹینٹ ہے کہ ان کے سا تھ بیٹھ کر اکا ؤنٹ کی باتیں کر یں ،نہ کسی مقدمے کا ایڈو کیٹ ہے کہ آئین ہند کی با تیں کرے نہ ان کے گا ؤں کا پر دھا ن نہ علا قہ کا ایم ،ایل ،اے یا ایم پی ،کہ اس لیول کی سیا سی باتیں کر ے وغیر ہ وغیر ہ ۔
آپ بیتی :ایک مر تبہ راقم اپنے ایک مقتدی کے گھر کسی خا ص غر ض کے تحت حا ضر ہوا میر ے سا تھ میر ےایک دو ست بھی تھے صا حب خانہ نے ہمارا خیر مقد م کیا علیک سلیک کے بعد خیر یت کا تبا دلہ ہو ا ۔چا ے نوشی کا دو ر جا ری تھا کہ میں نے ایک غیر ضرو ری بلکہ غیر منا سب سوال صاحب خا نہ سے کر لیا اس سوال کو میںاس وقت غیر مناسب نہیں سمجھتا تھا سوال سن کر میرے رفیق نےآنکھوں ہی آنکھوں میں مجھ پر یہ واضح کر دیا کہ وہ میر ی اس حر کت سے را ضی نہیں ہیں صا حب خا نہ نے بطیب خاطر میرے سوال کا جوا ب دیا میں نے صرف سما عت پر اکتفا کیا دو ست کی ناپسند یدگی کی وجہ سے میں صا حب خا نہ کو مز ید پر یشان کر نےسے با زرہا محفل ختم ہو ئی اور ہم سلام ودا ع کر کے اپنے کمرے کی طر ف چلے اور ہم دو نو ں میں مبا حثہ شر وع ہو نے میں اتناوقت با قی تھا جتنا وقت را ستہ طے کر نے میں لگ رہا تھا خیر جلد را ستہ طے ہو ااور مبا حثہ شر وع ہوا۔میں اپنا سوال بھی قارئین کو بتا تا چلو ں میرا سوال تھا کہ ڈا کٹر صا حب آپ نے اپنے کلینک کے لیے فلا ں آپر یشن کی مشین کتنے رو پیے میں خرید ی میں نے اپنے دو ست سے پو چھا بھا ئی میر ے سوال سے آپ اتنا خفا کیوں ہوے انہوں نے کہا کہ آپ نے غیر منا سب سوال ڈاکٹرصا حب سےکیا تھا آپ کو ہر گز یہ زیب نہیں دیتا کہ اس قسم کا سوال آپ کسی سےکریں ۔میں نے اپنی حما یت میں دلیل دیتے ہو ے کہا میرا سوال با لکل غیر منا سب نہیں تھا کیوں کہ میرے ڈاکٹر صا حب سے تعلقا ت اس نو عیت کے ہیں اور میر ی ان سےایسی بے تکلفی ہےجیسا کہ آپ نے ان کے جو اب سے محسوس کر لیا ہو گا ۔انہو ں نے کہا بے شک آپ صحیح کہہ رہے ہیں آپ کے تعلقا ت کی نو عیت بہت خو ب ہے لیکن میرے عزیز !آپ اس با ت پر غور کریں کہ وہ آپ سے محبت کس لیے کر تے ہیں ،اسی لیے نا کہ آپ ان کے امام اور ان کے دینی پیشوا ہیں تو پھر آپ کو اپنی حیثیت نہیں بھو لنا چاہیے۔
انہوںنے مزید کہا: آپ جب بھی کسی سے ملیں تو سلام کے بعد اس کی خیر یت معلو م کریں اور اگر سب کچھ بہتر چل رہا ہو تو انہیں شکر کی وصیت کریں کچھ پریشانی سا منے آے تو اسے اس کا دینی حل بتا ئیں اور اہل خانہ کے لیے دعاکر تے ہوے واپس آجا ئیں اس کی آمد کیا ہے، خر چ کیا ہے اس سے آپ کو کیا سرو کا ر ۔ان کی یہ سنجید ہ گفتگو اتنی مو ثر با وقا ر اور با وزن تھی کہ میں نے اپنا مو قف تبد یل کر لیا اس دن سے آج تک اسےگا نٹھ با ندھ کر محفو ظ کر لیا ہے ۔ہو سکتا ہے کہ بعض حضرا ت کو اس با ت پر اصرا ر ہو کہ نہیں میرا پہلا مو قف ہی درست اور صحیح تھا تو مجھے ان سے کو ئی بحث بھی نہیں کر نا ہے ہر ایک کو ایسے معا ملا ت میں اپنا خا ص طر زعمل اختیا رکر نے کی پو ری آزدی حاصل ہو تی ہے ۔
خواہش نفس کی مخالفت :امام آخر ایک انسا ن ہے اور اس کے سینے میں بھی جذ با ت سے معمو ر دھڑکتاہو ادل ہے لہٰذا اس کا دل بھی ان تما م چیز و ں کو پسند کر تا ہے جس میں عا م لو گو ں کو لطف محسو س ہو تا ہے ۔مثلا ہو ٹلو ں میں بیٹھ کر کھا نا پینا وغیر ہ۔
مگر چو ں کہ امام قوم کا قا ئد ورہنما او ر نمو نہ ہے اسے وہ تما م تر با تیں بھی چھو ڑ نا پڑیں گی جو اگر چہ فی نفسہ جا ئز ہو ں مگر مر وت کے خلا ف ہو ں یا ان چیزو ں کا انجام کسی غلط فہمی کا پیش خیمہ ہوا ۔
اس کی طر ف اشا ر ہ کر تے ہو ے سر و ر کا ئنا ت ﷺ نےار شا د فرمایا : ’’ اتقوا مو اضع التھم‘‘لہٰذا امام اپنے کھا نے پینے کے انداز کھانے پینے کے مقا ما ت کا پو را خیا ل رکھے اسی طر یقے سے اس کے اٹھنے بیٹھنے کا انداز اور اٹھنے بیٹھنے کے مقا ما ت بھی بدگما نی کی سطح سے اعلیٰ ہو نا چاہیے بلکہ حضور ﷺ کے فرمان’’ ویسعک بیتک ‘‘ (تمہا را گھر تمہیں کا فی ہو ) کے تحت اس کی قیام گا ہ ہی اس کے لیے بہترٹھکا نہ ہے ہاں
دینی ودنیوی ضرور تو ں سے اسے فرا ر نہیں لہٰذا اسے ضر ورت بھر ہی اپنے آپ کو لو گو ں کے سا تھ مشغو ل رکھنا چا ہیے ۔

جاری۔۔