مسئلہ ختم نبوت اور مشائخ اہلسنت NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 315 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



جس طرح قادیانی کی زندگی ہی میں حضرت سیدنا پیر مہر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے قادیانیت کے پر خچے اڑا دئیے اور حق کا بول بالا کر دیا اسی طرح جب بھی دوبارہ اس فتنے نے سر اٹھایا اس کی سرکوبی کا سہرا اہلسنت ہی کے سر رہا ہے مثلا 1954ء میں تحریک ختم نبوت چلی تو تحریک کے صدر اہلسنت کے عظیم راہنما حضرت علامہ سید ابوالحسنات قادری تھے اور ختم نبوت کی تحریک کی پاداش میں مجاہد ملت مولانا عبدالستار خان نیازی علیہ رحمۃ اور علامہ خلیل احمد ‍قادری رحمۃ اللہ علیہ کو سزاۓ موت سنائی گئی جس پر علامہ نیازی نے کہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر ایک ہزار مرتبہ بھی پھانسی کے پھندے پر جھولنے کے لیے تیار ہوں۔
1974ء میں جب قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تو اس تحریک کی قیادت قائد اہل سنت حضرت مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ نے کی پھر جب صدر ضیا الحق کے دور میں قادیانیوں نے اقوام متحدہ کے حقوق کمیشن میں شور مچایا تو جنیوا میں اس تحریک کو نیست و نابود کرنے کا سہرا حضرت ضیاءالامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کے سر سجا۔