دَیْوَر بھابھی کا پردہ NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 1982 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



سُوال:کيا اسلامی بہن کا اپنے دَیْوَر وجَیٹھ ،بہنوئی اور خالہ زاد ،ماموں زاد، چچا زاد و پھوپھی زاد، پُھوپھااور خالو سے بھی پردہ ہے ؟
جواب:جی ہاں۔بلکہ ان سے تو پردہ کے مُعامَلہ میں احتياط زيادہ ہونی چاہئے کیوں کہ آشنائی(یعنی جان پہچان) کے سبب جِھجک اُڑی ہوئی ہوتی ہے اور یوں ناواقِف آدَمی کے مقابلے میں کئی گُنا زیادہ فِتنے کا خطرہ ہو تا ہے مگر افسوس ! آج کل ان سے پردہ کرنے کا ذِہن ہی نہیں ، اگر کوئی مدینے کی دیوانی پردہ کی کوشِش کرے بھی تو بے چاری کو طرح طرح سے ستایا جاتاہے۔مگر ہِمّت نہیں ہارنی چاہئے۔ نامُساعِد حالات کے باوُجُود جو خوش نصیب اسلامی بہن شَرعی پردہ نبھانے میں کامیاب ہو جائے اورجب دُنیا سے رخصت ہو تو کیا عجب!مصطَفٰے کی نورِ عین ، شہزادیئ کونَین ، مادَرِحَسَنَین ، سیِّدۃُ النِّساء فاطمۃُ الزَّہراء صلَّی
اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اُس کا پُر تپاک استقبال فرمائیں ، اُس کو گلے لگائیں اور اسے اپنے بابا جان ،دو جہان کے سلطان، رحمتِ عالمیان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی انجمن میں پہنچائیں۔ ؎

کیوں کریں بزمِ شَبستانِ جِناں کی خواہِش
جلوۂ یار جو شمعِ شبِ تنہائی ہو (ذوقِ نعت)

دَیْوَر وجَیٹھ ،بہنوئی اور خالہ زاد ،ماموں زاد، چچازاد و پھوپھی زاد، پھوپھااور خالو سے پردے کی تاکید کرتے ہوئے میرے آقااعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِ سنّت، مُجَدِّدِدين وملّت ،مولاناشاہ احمد رضا خان عليہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہيں:٭ جَیٹھ، دَیْوَر، بہنوئی، پُھپّا، خالو ،چچا زاد ، ماموں زاد، پُھپّی زاد، خالہ زاد بھائی يہ سب لوگ عورت کے لئے مَحض اجنبی ( یعنی غیر مرد) ہيں بلکہ ان کا ضَرَر(نقصان) نِرے ( یعنی مُطلَقاً ) بَیگا نے (یعنی پَرائے ) شخص کے ضَرَر سے زائد ہے کہ مَحْض غیر(یعنی بِالکل ناواقِف ) آدمی گھر ميں آتے ہوئے ڈرےگا اور يہ( یعنی بیان کردہ رشتے دار) آپس کے مَیل جُول ( اور جان پہچان)کے باعِث خوف نہيں رکھتے۔ عورت نِرے اجنبی(یعنی مُطلَقاً نا واقِف ) شخص سے دَفْعَۃً(فوراً) مَیل نہيں کھا سکتی (یعنی بے تکلُّف نہیں ہو سکتی ) اور اُن (یعنی مذکورہ رشتہ داروں) سے لحاظ ٹوٹا ہوتا ہے ( یعنی جھجک اُڑی ہوئی ہوتی ہے) وَلہٰذاجب رسولُ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے غَیر عَورَتوں کے پاس جانے کو مَنْع فرمايا (تو) ایک صَحابی انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی،يارسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جَیٹھ دَیْوَرکے لئے کیا حُکم ہے؟ فرمايا: ٭ جَیٹھ دَیْوَر تو موت ہيں۔٭
(فتاوٰی رضویہ ج۲۲ ص ۲۱۷ )