عورت کا مرد سے علاج کروانا NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 1815 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



سُوال: طبیب ،مریضہ کو دیکھ اور چُھو سکتا ہے کہ نہیں؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جواب:اگر طبیبہ (لیڈی ڈاکٹر)مُیَسَّر نہ ہو تو مجبوری کی حالت میں اجازت ہے۔
اِس بارے میں صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:
اجنبی عورت کی طرف نظر کرنے میں ضَرورت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ عورت بیمار ہے، اس کے علاج میں بعض اَعضاء کی طرف نظر کرنے کی ضَرورت پڑتی ہے بلکہ اس کے جسم کوچُھونا پڑتا ہے مَثَلاًنَبض دیکھنے میں ہاتھ چُھونا ہوتا ہے یا پیٹ میں وَرم کا خیال ہو توٹَٹول کر دیکھنا ہوتا ہے یا کسی جگہ پھوڑا ہو تو اسے دیکھنا ہوتا ہے بلکہ بعض مرتبہ ٹٹولنا بھی پڑتا ہے اِس صورت میں مَوضَعِ مرض(یعنی مرض کی جگہ) کی طرف نظر کرنا یا اِس ضَرورت میں بقدرِضَرورت اس جگہ کو چُھونا جائز ہے۔ یہ اس صورت میں ہے (کہ)کوئی عورت علاج کرنے والی نہ ہو ۔ورنہ چاہیے یہ کہ عورَتوں کو بھی علاج کرنا سکھایا جائے تاکہ ایسے مَواقِع پر وہ کام کریں کہ ان کے دیکھنے وغیرہ میں اتنی خرابی نہیں جو مرد کے دیکھنے وغیرہ میں ہے۔ اکثر جگہ دائیاں ہوتی ہیں جو پیٹ کے وَرم کو دیکھ سکتی ہیں۔ جہاں دائیاں دستیاب ہوں مرد کو دیکھنے کی ضَرورت باقی نہیں رہتی۔ علاج کی ضَرورت سے نظر کرنے میں بھی یہ احتیاط ضَروری ہے کہ صِرف اُتنا ہی حصّۂ بدن کھولا جائے جس کے دیکھنے کی ضَرورت ہے باقی حصّۂ بدن کو اچّھی طرح چھپا دیا جائے کہ اس پر نظر نہ پڑے۔
اگر دیکھنے سے کام چل سکتا ہے تو چُھو نے کی شرعاً اجازت نہیں۔ یاد رہے !چھونا دیکھنے سے زیادہ سخت ہے۔