احادیث مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں مناقب امام حسین رضی اللہ عنہ کے چند گوشے NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 463 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



احادیث مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں مناقب امام حسین رضی اللہ عنہ کے چند گوشے
از:عطاء الرحمن نوری مبلغ سنی دعوت اسلامی،مالیگائوں
آپ کا اسم گرامی حسین اور کنیت ابو عبد اللہ ہے اور’’ سِبطِ رسول، رَیحا نۃ الرسول، قُرۃُ العین، سید، طَیِّب‘‘ آپ کے القاب ہیں۔ نسب اس طرح ہے: حسین بن علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف قرشی ہاشمی۔ذیل میں حسین اعظم رضی اللہ عنہ کی اہمیت وافادیت ملاحظہ کریں۔
ایک روز حضرتِ امام حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کشتی لڑنے لگے، سید العالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کشتی کو ملاحظہ فرما کرکہہ رہے تھے ’’حسن!حسین کو پکڑو‘‘۔ سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا عرض کرنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ حسن سے فرماتے ہیں حسین کو پکڑو جب کہ حسین چھوٹا ہے تو سید العالمینﷺنے فرمایا: جبریل حسین سے فرماتے ہیں کہ حسن کو پکڑو۔ (عظمت ماہ محرم اور امام حسین رضی اللہ عنہ)قارئین کرام! یہ واقعہ بتا رہا ہے کہ حسنین کریمین سے صرف حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی نہیں بلکہ اللہ رب العزت اور جبرئیلِ امین سب سے سب محبت فرماتے ہیں لہٰذا ہم کو بھی چاہئے کہ اپنے دل میں حسنین کریمین کی محبت کو بسائیں تاکہ اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا حاصل ہو۔چند احادیث ملاحظہ فرمائیں۔
(۱)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس نے حسن اورحسین سے محبت کی گویا اس نے مجھ سے محبت کی اورجس نے ان دونوں سے نفرت کی یاعداوت رکھا توگویااس نے مجھ سے نفرت وعداوت رکھا۔(ابن ماجہ ،باب فضائل الحسن والحسین)(۲)جوان دونوں (حسن حسین ) سے محبت کرتاہے گویا مجھ سے محبت رکھتاہے اورجو مجھ سے محبت رکھتا ہے گویا اللہ سے محبت رکھتاہے اورجو اللہ سے محبت کرے تو اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا اورجوان سے عداوت رکھتاہے گویا مجھ سے عداوت رکھتا ہے اورجومجھ سے عداوت کرے وہ اللہ سے عداوت رکھتا ہے اوراللہ اسے جہنم میں ڈالے گا۔(المستدرک للحاکم ،جلد سوم)(۳)حضرت زید ابن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ، حضرت فاطمہ اورامام حسن وحسین سے فرمایا میںان سے صلح رکھوں گاجو تم سے صلح رکھے گا اورمیںان سے لڑوں گاجوتم سے لڑے گا۔(ابن ماجہ، باب فضائل الحسن والحسین)(۴)حضرت یعلی بن مرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاحسین مجھ سے ہے اورمیںحسین سے ہوں، اللہ ان سے محبت فرماتاہے جو حسین سے محبت کرتے ہیں حسین میرے فرزندوں میں سے ایک ہے۔(ترمذی، مناقب امام حسن و حسین)(۵)بیشک حسن اورحسین یہ دونوں دنیا میں میرے دوپھول ہیں۔(ترمذی ، مناقب امام حسن وحسین) (۶) حسین مجھ سے ہے اورمیں حسین سے ہوں اللہ اس سے محبت فرماتا ہے جوحسین سے محبت رکھتاہے۔(ابن ماجہ ،باب فضائل الحسن والحسین)مذکورہ احادیث مبارکہ سے مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوئیں۔
(۱)امام حسین اہل بیت سے ہیں ۔(۲)حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں اپنا بیٹا قرار دیا ۔(۳)جنتی جوانوں کا سردار فرمایا۔(۴)ان کی محبت کو اپنی محبت قرار دیا اور ان سے بغض و عناد کو اللہ و رسول سے بغض و عناد قرار دیا۔(۵)جو ان سے صلح رکھتا ہو ان سے صلح کا اعلان فرمایا اور جو ان سے لڑائی کرے ان سے لڑائی کا اعلان فرمایا۔(۶)انھیں اپنا پھول قرار دیا (۷)حضور انھیں چومتے اور سینے سے لگاتے تھے۔(۸)یہ حضور کے حد درجہ مشابہ تھے ۔(۹)حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کعبہ شریف کے سایہ میں تشریف فرما تھے۔ انہوں نے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تشریف لاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا:آج یہ آسمان والوں کے نزدیک تمام زمین والوں سے زیادہ محبوب ہیں۔ (خطبات محرم)(۱۰) حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں حسن وحسین کو لیکر حضور پر نور ا کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا حضور! یہ آپ کے دونوں نواسے ہیں انہیں کچھ عطا فرمایئے تو حضور نے فرمایا :حسن کے لئے میری ہیبت وسیادت ہے اور حسین کے لئے میری جرأت و سخاوت ہے۔ (خطبات محرم )
٭٭٭
عطا ء الرحمن نوری( جرنلسٹ) مالیگائوں،ضلع ناسک ۔۴۲۳۲۰۳،مہاراشٹر(انڈیا) موبائل نمبر:9270969026