عاشوراء کی خیرات کی برکات NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 2136 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



عاشورا ء کے روزمُلک \\\'\\\'رَے\\\'\\\'میں قاضی صاحِب کے پاس ایک سائل آکرعرض گزار ہوا، میں ایک بَہُت نادارو عِیال دار آدَمی ہوں، آپ کو یومِ عاشُوراء کا واسِطہ! میرے لئے روٹی،گوشت ،اور دو دِرہم کا انتِظام فرما دیجئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی عزّت میں بَرَکت دے۔ قاضی صاحِب نے کہا، ظُہر کے بعد آنا۔فقیرظُہر کے بعد آیا تو کہا، عَصر کے بعد آنا۔ وہ عَصر کے بعد پہنچا تب بھی کچھ نہیں دیا خالی ہاتھ ہی ٹَرخا دیا۔ فقیر کا دل ٹوٹ گیا،
---------------------------------------------------------------------------------
وہ رنجیدہ رنجیدہ ایک نصرانی کے پاس پہنچا اور اُس سے کہا، آج کے مقدّس دن کے صَدقے مجھے کچھ دیدو۔ اُس نے پوچھا ،آج کون سا دن ہے؟ جواب دیا، آج یومِ عاشُوراء ہے یہ کہنے کے بعد عاشُوراء کے کچھ فضائل بیان کئے۔ اُس نے سُن کر کہا،آپ نے بَہُت ہی عظمت والے دن کا واسِطہ دیا، اپنی ضَرورت بیان کیجئے! سائل نے اُس سے بھی وُہی ضَرورت بیان کر دی۔ اُس آدَمی نے وافِرمقدار میں گیہوں، گوشت، اور بیس دِرہم پیش کرتے ہوئے کہا، یہ آپ کے اَہل و عِیال کے لئے زندگی بھر ہر ماہ اس دن کی فضیلت و
حُرمت کے صَدقے مقرَّر ہے۔
---------------------------------------------------------------------------------

رات کو قاضی صاحِب نے خواب دیکھا کہ کوئی کہہ رہا ہے، نظر اُٹھا کر دیکھ!جب نظر اُٹھائی تودو عالیشان مَحَل نظر آئے، ایک چاندی اور سونے کی اینٹوں کا اوردوسرا سُرخ یاقُوت کاتھا۔ قاضی نے پوچھا ، یہ دونوں مَحَل کس کے ہیں ؟ جواب ملا، اگر تم سائل کی ضَرورت پوری کر دیتے تویہ تمہیں ملتے، مگر چُونکہ تم نے اسے دھکّے کِھلانے کے باوُجُود بھی کچھ نہ دیا اِس لئے اب یہ دونوں مَحَل فُلاں نصرانی کے لئے ہیں۔ قاضی صاحِب بیدار ہوئے تو بَہُت پریشان تھے۔ صُبح ہوئی تو نصرانی کے پاس گئے اور اُس سے دریافْتْ کیاکہ کل تم نے کون سی\\\'\\\'نیکی\\\'\\\' کی ہے؟ اُس نے پوچھا ، آپ کو کیسے علم ہوا؟
---------------------------------------------------------------------------------

قاضی صاحِب نے اپنا خواب سنایا ، اور پیشکش کی کہ مجھ سے ایک لاکھ دِرہم لے لو اور کل کی\\\'\\\'نیکی\\\'\\\' مجھے بیچ دو! نصرانی نے کہا، میں رُوئے زمین کی ساری دولت لے کر بھی اِسے فَروختْ نہیں کروں گا،ربُّ العزّت جَلَّ جَلاَ لُہٗ کی رَحمت و عنایت بَہُت خوب ہے۔
لیجئے !میں مسلمان ہوتا ہوں یہ کہہ کر اُس نے پڑھا، اَشھَدُ اَنْ لَّا ۤاِلٰہَ اِلَّا للہُ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ (عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) میں گواہی دیتا ہوں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور گواہی دیتا ہوں محمد اُس کے بندہ خاص اوراس کے رسول ہیں صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔
==================
(روضُ الریاحین ص۱۵۲)