اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی کرامت NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 3285 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



سرکارِ اعلیٰحضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب 21 برس کے نوجوان تھے اُس وَقْت کا واقِعہ خود اُن ہی کی زَبانی ملاحَظہ ہو ،
چُنانچِہ فرماتے ہیں،
\\\'\\\'سَتْرہویں شریف ماہِ فاخِر ربیعُ الآخِر ۱۲۹۳؁ھ میں کہ فقیر کو اکیسواں سال تھا۔ اعلیٰحضرت مصنِف عَلّام سیِدناَ الوالِد قُدِس سِرّہُ الماجِد و حضرت مُحِبُّ الرسول جناب مولیٰنا مولوی محمد عبدالقادِر صاحِب بدایونی دامت بَرَکاتہم العالیہ کے ہمراہِ رِکاب حاضِر بارگاہِ بیکس پناہ ِحُضور پُر نُور محبوبِ الہٰی نظامُ الحقِّ وَالدّین سلطانُ الْاَولیاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوا۔
حُجرہ مُقدَّسہ کے چار طرف مجالسِ باطِلہ لَہْو و سُرُوْد گرْم تھیں ۔شور و غَوغا سے کان پڑی آواز نہ سنائی دیتی۔
دونوں حضراتِ عالِیات اپنے قُلوبِ مُطمئِنہ کے ساتھ حاضِرمُواجَہہ اَقدس ہوکر مشغول ہوئے ۔ اِس فقیرِ بے تَوقیرنے ہُجومِ شور و شَر سے خاطِر(یعنی دل )میں پریشانی پائی ۔
دروازہ مُطَہَرہ پر کھڑے ہوکر حضرتِ سلطانُ الْاَولیاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے عرض کی کہ اے مولیٰ ! غلام جس کیلئے حاضِر ہوا ،یہ آوازیں اس میں خَلَل اندازہیں ۔ (لفْظ یِہی تھے یا ان کے قَریب ،بَہَرحال مضمونِ مَعْروضہ یِہی تھا ) یہ عرض کرکے بِسمِ اللہ کہہ کر دَہنا پاؤں دروازہ حُجرہ طاہِرہ میں رکھا بِعَونِ رَبِّ قدیر عَزوَجَلّ وہ سب آوازیں دَفْعَۃً گُم تھیں ۔ مجھے گمان ہوا کہ یہ لوگ خاموش ہورہے ،پیچھے پھر کر دیکھا تو وُہی بازار گَرْم تھا ۔قدم کہ رکھا تھا باہَر ہٹایا پھر آوازوں کا وُہی جوش پایا ۔ پھر بِسمِ اللہ کہہ کر دَہنا پاؤں اندر رکھا ۔ بِحَمدِاللہِ تَعَالیٰ پھر ویسے ہی کان ٹھنڈے تھے ۔اب معلو م ہوا کہ یہ مولیٰ عَزوَجَلّ کا کرم اور حضرتِ سلطانُ الْاَ ولیاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی کرامت اور اس بندہ ناچیز پر رَحْمت و مَعُونَت ہے ۔ شکر بجا لایا اور حاضِر مُواجَہَہ عالِیہ ہوکر مشغول رہا ۔ کوئی آواز نہ سنائی دی ،جب باہَر آیا پھر وُہی حال تھا کہ خانقاہِ اقدس کے باہَر قِیام گاہ تک پہنچنا دشوار ہوا ۔
فقیر نے یہ اپنے اوپرگُزری ہوئی گزارِش کی ،کہ اوّل تو وہ نعمتِ الہٰی عَزوَجَلّ تھی اور ربَّ عَزوَجَلَّ فرماتاہے ،
وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ ﴿٪۱۱﴾ ؎ ۱
اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی نعمتوں کو لوگوں سے خوب بیان کر ۔\\\'\\\'
مَع ھذٰا اِس میں غُلامانِ اولیائے کِرام رَحِمَہمُ اللہُ تعالیٰ کیلئے بِشارت اور مُنکِروں پر بَلا و حسرت ہے ۔ الہٰی ! عَزوَجَلَّ صَدَقہ اپنے محبوبوں (رِضْوانُ اللہِ تعالیٰ علیھم اَجمعین )کاہمیں دنیا و آخِرت و قَبْر و حَشْر میں اپنے محبوبوں عَلَیہُمُ الرِّضْوَان کے بَرَکاتِ بے پایاں سے بَہرہ مند فرما۔
(اَحْسَنُ الْوِعَاء لِاٰدَابِ الدُّعاء ص ۶۰ تا ۶۱)
؂۱ پ ۳۰ سورۃُ الضُّحیٰ آیت ۱۱