1857 سے 1947 تک علماء و مشائخ اہل سنت والجماعت کا ہندوستان میں تاریخی کردار NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 370 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



تاریخ ہند سے دل چسپی رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ جنگ آزادی 1857ء میں علمائے اہل سنت اور مشائخ طریقت کا نہایت بنیادی کردار رہا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو کچھ مبالغہ نہ ہوگا کہ شمالی ہند میں انگریزوں کے خلاف مسلم رائے عامہ ہموار کرنے اور پورے خطے میں انقلاب کی فضا برپا کرنے کا بنیاد ی کا انہی کی قیادت و سربراہی میں ہوا ان مجاہدین میں مجاہد اعظم جنگ آزادی ہند 1857ء بطل حریت فلسفی شاعرعلامہ مولانا مفتی فضل حق شہید خیر آبادی (1797ء تا 20 اگست 1861ء /م1278ھ)، مفتی صدر الدین خاں آزردہ دہلوی م1285ھ، مولانا سید احمد اللہ شاہ مدراسی م1274ھ 1858ء، مفتی عنایت احمدکاکوری م1279ھ، مولانا رحمت اللہ کیرانوی 1308ھ، مولانا فیض احمد بدایونی، مولانا ڈاکٹر وزیر خاں اکبر آبادی م1289ھ 1873ء، مولانا وہاج الدین مراد آبادی م1274ھ 1858ء، مولانا رضا علی خاں بریلوی م1286ھ 1869ء، مولانا امام بخش صہبائی دہلوی م1273ھ 1857ء، مفتی مظہر کریم دریابادی، حکیم سعید اللہ قادری م1325ھ وغیرہ کے انقلابی کارنامے آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں اورشہیدِ جنگ آزادی حضرت مولانا مفتی سید کفایت علی کافی مراد آبادی علیھم الرحمہ والرضوان کا نام اس فہرست میں بہت نمایاں نظر آتا ہے
حوالہ: شھید ملت سید کفایت علی کافی مرادآبادی
انگریز کی آمد اور برعظیم پر مکمل قبضے کے بعد وقت کے تقاضے علماء و مشائخ کو مسند دعوت و ارشاد سے اٹھا کر رسم شبیری ادا کرنے کیلئے میدان عمل میں لے آئے، 1857 کے معرکہ کارزار میں علامہ فضل الحق خیرآبادی، مولانا سیّد کفایت علی کافی، مفتی صدرالدین آزردہ،مفتی عنایت احمد کاکوروی، مولانا فضل رسول بدایونی، مفتی لطف اللہ علی گڑھی، مولانا شاہ احمد اللہ مدراسی،مولانا عبدالجلیل شہید گڑھی، مولانا فیض احمد بدایونی،منشی رسول بخش کاکوری، مولانا رضا علی خان اورمولانا نقی علی خان وغیرہ نے آزادی حریت کی شمع روشن کی،جبکہ 1857 کے بعد مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی نے اِس قافلہ حریت کی فکری آبیاری فرمائی اور دو قومی نظریئے کا شعور دیا۔ آپ کے بعد آپ کے خلفاء اور علمائے اہلسنّت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان، صدرالافاضل مولانا نعیم الدین مرادآبادی، مبلغ اسلام علامہ عبدلعلیم صدیقی،سیّد محمد محدث کچھوچھوی، مولانا امجد علی خان، ابوالحسنات سید محمداحمد قادری، ابوالبرکات سید احمد قادری،علامہ عبدالحامد بدایونی، امیر ملت پیر جماعت علی شاہ، خواجہ قمر الدین سیالوی، مولانا سید احمد سعید کاظمی، مولانا عبدالستار خان نیازی، مولانا عبدالغفور ہزاروی، مولانا ابراہیم علی چشتی، مولانا غلام محمد ترنم، مفتی سرحد مفتی شائستہ گل، پیر عبدالرحیم پیر آف بھرچونڈی شریف، پیر آف مانکی شریف اورپیر آف زکوڑی شریف وغیرہ نے برصغیر کے مسلمانوں میں سیاسی شعور کی بیداری میں بہت اہم کردار ادا کیا اور تحریکِ پاکستان میں ہراوّل دستے کا کردار ادا کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم لیگ اور قائد اعظم محمد علی جناح کے شانہ بشانہ کام کیا، اِن اکابرین اہلسنّت کی یہ تاریخی جدوجہد جماعت رضائے مصطفی، شدھی و سنگھٹن تحریکیں، تحریک خلافت، موالات و ہجرت اور آل انڈیا سنی کانفرنس کے قیام 1925 سے لے کر بنارس سنی کانفرنس 1946 کے تاریخ ساز اجلاس اور 14 اگست 1947 کو قیام پاکستان تک پھیلی ہوئی ہے۔بے شک قیام پاکستان علماء و مشائخ اور عوام اہلسنّت کی لازوال جدوجہد اور قربانیوں کا ثمرہے، کوئی غیر جانبدار مورخ اِس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ تحریک پاکستان کے سفر میں تکمیل پاکستان تک کوئی ایک موڑ بھی ایسا نہیں تھا، جہاں حضرات علماء و مشائخ اہلسنّت قوم کی رہبری و رہنمائی کیلئے موجود نہ تھے
حوالہ: تعمیر ملت کیلئے تاریخ ساز جدوجہد ۔ ۔ ۔ ۔از؛ محمد احمد ترازی